بخدمت جناب علماء کرام السلام علیکم!
جناب میرے سسرال والوں نے مجھ سے گن پوائنٹ پر میری اور میری بیوی کے بیچ میں طلاق کروائی ، لیکن نہ میں اس بات پر رضامند تھا اور نہ ہی میری زوجہ اس پر رضامند تھی۔ انہوں نے مجھے کہا اگر تم لڑکی کو طلاق نہیں دیتے تو ہم تمہیں گولی مار دیں گے۔ پھر انہوں نے میرے سے زبردستی طلاق کروا دی۔ جس پر میں نے اس کو ایک بار نام لے کر بولا اور دو دفعہ بنا نام کے بولا ۔الفاظ طلاق یہ تھےکہ ” نجمہ بی بی بنت انوار الاسلام ، میں تم کو طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق “ ۔علماء کرام اس بات پر مجھے بتائیں کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟
نام: محمد ظہیر ہزاروی رابطہ نمبر:- 2868275 0328
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے سسرال والوں نے بلاوجہ شرعی اس سے گن پوائنٹ پر اور قتل کی دھمکی دے کر طلاق دلوائی ہو تو اگرچہ اس سے وہ بہت سخت گناہ گار ہوئے ہیں اور اس عمل پر بصدق دل توبہ واستغفار لازم ہے تاہم جب سائل نے اس دوران زبان سے سوال میں مذکور جملہ ”نجمہ بی بی بنت انوار الاسلام، میں تم کو طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق“ ادا کر لیا ہے تو اس سے اس کی بیوی” نجمہ“ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اورنہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے تجدید ِنکاح ہو سکتا ہے ۔
لہذا سائل اور اس کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، جبکہ عدت گزرنے کے بعد سائل کی بیوی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تبارک و تعالی ﴿وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٞ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ…﴿١٠٢﴾… سورة البقرة
و فی رد المحتار تحت : ( قولہ لا اقرارہ بالطلاق ) ( الی قولہ ) ھذا ، وفی البحر ان المراد الاکراہ علی التلفظ بالطلاق ، فلو اکرہ علی ان یکتب طلاق امراتہ فکتب لا تطلق ، لان الکتابۃ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ و لا حاجۃ ھنا ( کتا ب الطلاق ج:3 ص:236 ط: سعید ) ۔
و فی البحر الرائق: قوله: (ولو مكرها) أي ولو كان الزوج مكرها على إنشاء الطلاق لفظا وقيدنا بالإنشاء لأنه لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ. الخ(كتاب الطلاق ج:3 ص:264 ط: دارالكتاب الإسلامي)۔