کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے رات کے وقت اپنے والد کی موجودگی میں اپنی بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ تین طلاقیں دیں۔ اس وقت شوہر ، بیوی اور شوہر کے والد کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا۔ طلاق کے بعد شوہر نے ایک مرد اور ایک عورت کے سامنے طلاق دینے کا ذکر کیا، اور بیوی نے بھی اپنے سسر اور ایک عورت کے سامنے طلاق واقع ہونے کا اقرار کیا۔
بعد میں میاں بیوی نے باہمی اتفاق سے ہر جگہ طلاق کا انکار شروع کر دیا اور دونوں اکٹھے رہنے لگے ۔ شوہر کے والد نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی، مگر دونوں نے والد کو دھمکیاں دیں، حتی کہ مار پیٹ بھی کی۔ جن لوگوں کے سامنے بعد میں طلاق کا اقرار کیا گیا تھا، انہیں بھی دھمکیاں دی گئیں، جس کی وجہ سے وہ گواہی دینے سے خوف زدہ ہیں۔ والد کو بھی اپنی جان کا خطرہ ہے، اس لیے وہ نہ بیٹے کو گھر سے نکال سکتا ہے اور نہ بہو کو۔ علاقے میں شرعی عدالت یا قاضی بھی موجود نہیں۔
1. کیا تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ؟
2. ایسی صورت میں شوہر کے والد پر شرعا کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
3. جبکہ میاں بیوی طلاق کا انکار کر رہے ہوں، کوئی گواہ موجود نہ ہو یا خوف کی وجہ سے سامنے نہ آرہے ہوں اور والد کو بھی جان کا خطرہ ہو، تو والدہ اس حالت میں کیا کرے؟
4. کیا والد کے بیان کی بنیاد پر ان کے درمیان تفریق کا حکم دیا جاسکتا ہے، یا والد اپنی استطاعت کے مطابق حق بات بیان کر دینے کے بعد بری الذمہ ہو گا؟براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ مفتی غیب نہیں جانتا،وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابند ہوتاہے، سوال کے سچ یاجھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہيد كے بعد واضح ہوكہ صورت مسئولہ مىں جب میاں بیوی دونوں طلاق کے منکر ہیں،اور جن کے سامنے اقرار کیا وہ بھی گواہی دینے کو تیار نہیں تو ایسی صورت میں قضاءً تو طلاق کا حکم نہیں لگایا جا سکتا، تا ہم اگر میاں بیوی دونوں غلط بیانی سے کام لے رہے ہوں تو عند اللہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے اور دونوں کا ایک ساتھ رہنا بھی شرعا ناجائز و حرام ہے۔
جبکہ اس بابت والد کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ حتی الوسع بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کرے اور اگر وہ اس کے باوجود بھی باز نہ آئے تو والد پر اس کے مذکور جرم کا کوئی گناہ نہ ہوگا اور وہ عند اللہ بیٹے کے اس عمل سے بری الذمہ قرار پائے گا۔
كما في الدر المختار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 247، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع (إلى قوله) (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق فجرى على لسانه الطلاق أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا أو بألفاظ مصحفة يقع قضاء فقط، بخلاف الهازل واللاعب فإنه يقع قضاء وديانة لأن الشارع جعل هزله به جدا فتح.اهـ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 235-242، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ. ويأتي تمامه.اهـ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 236، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: الرجل إذا طلق امرأته، ثم أنكر الطلاق فأقيمت عليه البينة وقضى القاضي بالتفريق فإن العدة من وقت الطلاق لا من وقت القضاء كذا في الخلاصة.اهـ (الباب الثالث عشر في العدة، ج: 1، ص: 532، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر (وصَوّرتها دار الفكر بيروت وغيرها)
وفي الدر المختار أيضا: خانية. وفيها: أبانها ثم أقام معها زمانا، إن مقرا بطلاقها تنقضي عدتها لا إن منكره وفي أول طلاق جواهر الفتاوى: أبانها وأقام معها فإن اشتهر طلاقها فيما بين الناس تنقضي وإلا لا؛ وكذا لو خالعها، فإن بين الناس وأشهد على ذلك تنقضي وإلا لا هو الصحيح، وكذا لو كتم طلاقها لم تنقض زجرا اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: ثم أقام معها) أطلقه فشمل ما إذا وطئها، أو لا. اهـ. ط (قوله: إن مقرا بطلاقها تنقضي عدتها) أي يكون ابتداؤها من وقت الطلاق والظاهر أن المراد إقراره بين الناس لا مجرد إقراره به عندها مع تصديقها له، وأن المراد إقراره به من حين التطليق، (إلى قوله) (قوله: فإن اشتهر إلخ) فلو طلقها ثلاثا بعد هذه الطلقة المشتهرة لا تقع الثلاث كما سيأتي في الفروع (إلى قوله) (قوله: وأشهد) أشار إلى أن الاشتهار لا بد أن يكون بإقراره بين الناس لا بمجرد سماعهم من غيره وإلى أن إقراره عند رجلين يكفي فلا يلزمه الإقرار عند أكثر، فإن الشهادة إشهار كما قالوه في النكاح من أن الإعلان الذي قال باشتراطه الإمام مالك يحصل بالشاهدين فافهم (قوله: وكذا لو كتم طلاقها لم تنقض زجرا) أي زجرا له عن الكتمان، وهذا (باب العدة، ج: 3، ص: 521، ط: إيج إيم سعيد)
وفي البحر الرائق: ومنه أخبرها بطلاقها، بشرها بطلاقها، احمل إليها طلاقها، أخبرها أنها طالق، قل لها إنها طالق، فتطلق للحال ولا يتوقف على وصول الخبر إليها ولا على قول المأمور ذلك.اهـ (كتاب الطلاق، باب ألفاظ الطلاق، ج: 3، ص: 272، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي البناية شرح الهداية: م: (ولنا أن الطلاق المنصوص عري عن قيد الإشهاد) إلخ (باب الرجعة، الإشهاد على الرجعة، ج: 5، ص: 458، ط: دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)
وفي رد المحتار: كما لو وطئ معتدته من الثلاث عالما بحرمتها فإنه زنا يحد به مع بقاء أثر النكاح قطعا.اهـ (باب العدة، ج: 3، ص: 523، ط: إيج إيم سعيد)