جناب مفتی صاحب ! 2 اگست رات کو ہمارالڑ کا ہمر ا ہ دو ساتھیوں کے بائک پر روڈ کر اس کر رہا تھا اور اچانک تیز رفتار ڈمپر نے سامنے کی سمت سے انہیں ٹکر ماری، جس کے باعث ہمارا لڑکا دور گرا اور سر پر چوٹ لگنے سے موقع پر ہی فوت ہو گیا اور جبکہ دوسرے دونوں لڑکے شدید زخمی ہوئے ، بعد ازاں دوسر الڑکا جو کہ 5 دن زیر علاج رہا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گیا اور تیسر الڑکا جس کے سر پر اور ریڑھ ہڈی پر چوٹیں لگنے کی وجہ سے دماغی توازن درست نہیں رہا اور ڈمپر تو پکڑا جا چکا ہے جبکہ ڈارئیور، کنڈیکٹر غائب ہیں اور ایف آئی آر بھی درج ہے اب ڈمپر مالکان ان کی جو ڈمپر یونین ہے اس کے زریعے ہمیں بار بار کہلوار ہے ہیں کہ بیٹھ کر فیصلہ کر لو ،بڑوں کو بٹھا کر آپس میں بات کر لو، ہم آپ کے خرچ وغیرہ جو ہوا ہے وہ ادا کرتے ہیں۔ ہم نے جو ایف آئی آر درج کروائی ہے اس پر مزید قانونی کاروائی کورٹ وغیرہ کے اخراجات ہم برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ گھر میں ماں بہنوں کا کفیل تھا اور یتیم تھا۔ اس صورت میں شریعت کے مطابق کیا حکم ہے ؟ہمیں مہربانی فرما کر قرآن اور حدیث کی روشنی میں بہترین مشورہ فراہم کیا جائے۔
و اضح ہو کہ کسی حادثہ (Accident) میں ڈرائیور کی بے احتیاطی، کوتاہی یا اس کی غلطی ثابت ہوجائے اور اس میں کسی کی ہلاکت ہوچکی ہو ، تو ایسی صورت میں ڈرائیور پر قتلِ خطا کا حکم جاری ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس پر دیت اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں سی سی ٹی وی کیمروں یا دیگر آلات کے ذریعے اس حادثہ میں مذکور ڈمپر کے ڈرا ئیور کی غلطی ہونا معلوم اور ثابت ہوجائے اس طور پر کہ وہ ٹریفک کے قوانین کی پروا ہ کیے بغیر تیز رفتاری سےگاڑی چلا رہاہو، یا اپنی سمت سے ہٹ کر ڈرائیونگ کررہا ہو،یا اس کی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی و غفلت سرزد ہوئی ہو، تو یہ قتل، قتل خطا شمار ہوگا ، اورڈرائیور اور ا س کی عاقلہ پر دیت اور ڈرائیور پر کفارہ (یعنی دو ماہ کے روزے رکھنا ) لازم ہوگا۔
اب اگر فریقین یعنی ڈرائیور کی جانب سے یونین کے افراد اور مقتول کے ورثاء آپس میں صلح کرناچاہتے ہوں ، تو کرسکتے ہیں ، شرعا اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چنانچہ ایسی صورت میں مقتول کے تمام ورثاء اگر عاقل بالغ ہوں ، اور کسی بھی عوض کے بدلے صلح کرلیں ، تو ڈرائیوراور اس کی یونین و کمیونٹی سے دیت کی رقم ساقط ہوجائے گی اور مقررہ عوض دینا ان پر لازم ہوگا، البتہ اگر ورثاء میں کوئی عاقل بالغ نہ ہو یا وہ صلح پر راضی نہ ہو ، تو اس شخص کے حصہ کے بقدر دیت ساقط نہ ہو گی بلکہ ڈرائیور اور یونین والوں پر دیگر ورثاء کو صلح کی رقم کے حوالہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس نابالغ یا غیر راضی وارث کو اس کے حصہ شرعیہ کے بقدر دیت میں سے اس کا حصہ دینا لازم ہوگا۔
کما فی المبسوط للسرخسی: (قال: رحمه الله) وإذا سار الرجل على دابة أي الدواب كانت في طريق المسلمين فوطئت إنسانا بيد أو رجل وهي تسير فقتلته فديته على عاقلة الراكب، والأصل في هذا أن السير على الدابة في طريق المسلمين مباح مقيد بشرط السلامة بمنزلة المشي فإن الحق في الطريق لجماعة المسلمين وما يكون حقا للجماعة يباح لكل واحد استيفاؤه بشرط السلامة؛ لأن حقه في ذلك يمكنه من الاستيفاء ودفع الضرر عن الغير واجب عليه فيقيد بشرط السلامة؛ ليعتدل النظر من الجانبين(الی قولہ) فنقول: التحرز عن الوطء على شيء في وسع الراكب إذا أمعن النظر في ذلك، فإذا لم يسلم كان جانيا وهذه جناية منه بطريقالمباشرة؛ لأن القتل إنما حصل بفعله حين كان هو على الدابة التي وطئت فتجب عليه الكفارة وعلى عاقلته الدية اھ (باب جنایۃ الراکب ج:26 ص:188 ناشر: مطبعة السعادة – مصر)
وفی الھندیۃ: إن صالح أحد الشركاء من نصيبه على عوض، أو عفا سقط حق الباقين عن القصاص وكان لهم نصيبهم من الدية، ولا يجب للعافي شيء من المال، وإذا كان القصاص بين رجلين فعفا أحدهما فللآخر نصف الدية في مال القاتل في ثلاث سنين كذا في الكافي اھ (الباب السادس في الصلح والعفو والشهادة فيه ج:6 ص:21 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
وفی بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ: لأصل: أن سائق السيارة مسؤول عن كل ما يحدث بسيارته خلال تسييره إياها، وذلك لأن السيارة آلة في يده، وهو يقدر على ضبطها، فكل ما ينشأ عن السيارة، فإنه مسؤول عنه. والذي يظهر لي أن هناك فرقا كبيرا بين الدابة والسيارة من حيث إن الدابة متحركة بنفسها بخلاف السيارة، فإنها لا تتحرك إلا بفعل من السائق (الی قولہ) ولذا فيجب أن يضمن سائق السيارة لكل ضرر ينشأ عنها، سواء نشأ ذلك الضرر من أجزاء السيارة المتقدمة، أو من أجزائها المؤخرة، أو من أحد جانبيها. لأن كل ذلك تحت تصرف السائق، وليس شيء منها يتحرك بنفسه. إذن، فالأصل أن سائق السيارة ضامن لكل ضرر ينشأ من عجلاتها، أو من مقدمها، أو من خلفها، أو من أحد جانبيها؛ لأن السيارة آلة محضة في يد السائق، فتنسب مباشرة الإضرار إليه.فإن كان سائق السيارة متعديا في سيره بمخالفة قواعد المرور، مثل أن يسوق السيارة بسرعة غير معتادة في مثل ذلك المكان، أو لم يلتزم بخطه في الشارع، وما إلى ذلك من قواعد المرور الأخرى، فلا خفاء في كونه ضامنا؛ لأن الضرر إنما نشأ بتعديه، والمتعدي ضامن في كل حال اھ (قواعد ومسائل فی حوادث المرور ص:312 ناشر: دار القلم – دمشق)
مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار
یونیکوڈ تعذیر و جرمانہ 1