السلام علیکم!
عرض یہ ہے کہ میں ایک شرعی مسئلہ پر رہنمائی چاہتا ہوں۔چند ماہ پہلے میرا دوسری شادی کا ارادہ تھا۔ اس کے بارے میں جب میری زوجہ کو پتہ چلا تو کافی زیادہ لڑائی جھگڑا ہوا، جس کے بعد میں نے اس خاتون سے دوسری شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔گزشتہ دو دن پہلے میری زوجہ میرے موبائل پر واٹس ایپ چیک کر رہی تھی، جس پر اسے پھر سے شک ہوا اور وہ اس معاملے پر مجھ سے بحث کرنے لگی۔ میں نے تنگ آکر اسے یقین دلانے کے لئے یہ جملے کہہ دیے کہ "ان معاملات کے بعد اگر میں نے کسی نامحرم لڑکی سے بات کی ہو یا تعلق رکھا ہو واٹس ایپ پر، تو تم مجھ پر حرام ہو۔"اس نے مجھ سے پوچھا کہ "کیا آپ نے کی ہے؟" تو میں نے ان جملوں کو دوبارہ دہرایا کہ"اگر ان معاملات کے بعد میں نے کسی نامحرم لڑکی سے واٹس ایپ پر بات کی ہو یا تعلق رکھا ہو، تو تم مجھ پر حرام ہو۔"
چونکہ مجھے یقین تھا کہ ان معاملات کے بعد ایسا کچھ نہیں ہوا، اور نہ ہی میں نے کسی خاتون سے کوئی ناجائز تعلق رکھا یا بات چیت کی۔لیکن ان جملوں کے دہرانے کے بعد اچانک مجھے خیال آیا کہ چونکہ میں ایک دکاندار ہوں، تو خرید و فروخت کے سلسلے میں خواتین سے گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی رشتے دار خواتین سے بات چیت ہوتی رہی ہے اور کام کے سلسلے میں بھی ایک دو خواتین سے بات ہوئی ہے (جو کہ سب نامحرم ہی تھیں)۔
میری اور میری زوجہ کی بحث اس وقت واٹس ایپ پر کسی کے ساتھ ناجائز تعلق رکھنے یا اس نوعیت کی بات کرنے کے حوالے سے ہو رہی تھی۔ لہٰذا میں پریشان ہوں کہ اس کی وجہ سے میرے ازدواجی رشتے پر کوئی فرق یا خلل تو نہیں پڑا؟ برائے مہربانی میری شرعی رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل اور بیوی کے درمیان جب ایک دفعہ سابقہ اوقات میں کسی خاتون سے تعلق اور پھر اس سے شادی کی بات کا معاملہ آ گیا تھا اور پھر سائل کی بیوی کی طرف سے ناراضگی اور لڑائی جھگڑے کی وجہ سے تعلقات اور شادی سے باز آ گیا تھا جس کے بعد سائل اور بیوی کے درمیان تعلقات معمول پر آ گئے تھے، لیکن بیوی نے اپنے خدشات کی بنا پر سائل کا موبائل چیک کیا ہو اور پھر سائل نے اسے مطمئن کرنے کے لئے تعلیق کرتےوقت صراحۃً ”ان معاملات“ کا لفظ استعمال کیا تو ان تمام قرائن کی بنا پر سائل کے کلام کا مفہوم متعین اور محدود ہو گیا اور ان کے بولے گئے جملوں میں ”کسی نامحرم لڑکی سے بات کی یا تعلق رکھا ہو“سے مراد یہی ہوگا کہ ناجائز تعلق اور ناجائز تعلق کی بنا پر بات چیت کسی نامحرم لڑکی سے نہیں کی، چنانچہ اگر سائل اپنی بات میں سچا ہو تو کاروباری لین دین یا ضرورت کی بنا پر کسی لڑکی سے بات کرنے کی وجہ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی لہذا اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تاہم آئندہ طلاق کے الفاظ کے معاملہ میں خوب احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔
کما فی الدر المختار: (حلفه وال ليعلمنه بكل داعر) بمهملتين أي مفسد (دخل البلدة تقيد) حلفه (بقيام ولايته) بيان لكون اليمين المطلقة تصير مقيدة بدلالة الحال الخ
وقال فی الرد تحت(قوله تقيد حلفه بقيام ولايته) هذا التخصيص بالزمان ثبت بدلالة الحال وهو العلم بأن المقصود من هذا الاستحلاف زجره بما يدفع شره أو شر غيره بزجره لأنه إذا زجر داعرا انزجر آخر، وهذا لا يتحقق إلا في حال ولايته لأنها حال قدرته على ذلك فلا يفيد فائدته بعد زوال سلطنته، والزوال بالموت . الخ(کتاب الایمان،باب الیمین فی الضرب الخ،ج:3،ص:844،ط: سعید)
وفی الھندیہ: رجل قال لامرأته: إن دخلت دار أخي فأنت طالق فسكن أخو الحالف دارا أخرى ودخلت المرأة الدار الحديثة قال بعضهم: إن كانت يمينه بغيظ الحقد من تلك الدار الأولى لا يحنث في يمينه وإن كانت يمينه لأجل الأخ حنث في يمينه وإن لم تكن له نية حنث في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وإن دخلت المرأة الدار التي كانت لأخيه وقت اليمين إن كانت الدار في ملك الأخ إلا أنه لا يسكن فيها حنث في يمينه وإن خرجت تلك الدار عن ملك الأخ بعد اليمين ببيع أو هبة أو غير ذلك لا يحنث كذا في فتاوى قاضي خان (الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق،ج:1،ص: 434،ط: ماجدیۃ)
و فی المحيط البرهاني: قال محمّد رحمه الله في «الجامع» : إذا قالت المرأة لزوجها: إنّك تزوّجت عليّ، فقال الرّجل: كلّ امرأة لي طالق ثلاثاً طلقت المخاطبة. وروي عن أبي يوسف رحمة الله عليه: أنّها لا تطلق؛ لأنَّ غرض الزوج من هذه اليمين تطييب نفسها وتسكين قلبها من كلّ وجه، وذلك إنّما يحصل إذا أراد الزوج إيقاع الطلاق على امرأة أخرى، فإنّما نقول يحتمل أن يكون غرض الزوج ما قاله، ويحتمل أن يكون غرضه مغايظتها بإيقاع الطلاق عليها لما أنّها بالغت في الخصومة والمشاجرة، فأغضبه كلامها، فأراد أن يطلّقها مع غيرها مغايظة لها....... الدلالتان تثبت العبرة لعموم اللفظ.
وحكي من بعض المتأخرين من مشايخنا رحمهم الله: أنّه ينبغي أن يحكم الحال في هذا، فإن كان قد جرى بينهما قبل ذلك مشاجرة وخصومة فدلَّ على أنَّ ذلك أغضب الزوج وأنّ الزوج قد قال ذلك على سبيل الغضب يقع الطلاق عليها، وإن لم يجر بينهما قبل ذلك خصومة ومشاجرة تدلّ على أن ذلك أغضب الزوج لا يقع الطلاق عليها، قال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله وهذا القول حسن عندي الخ (کتاب الطلاق الفصل السابع عشر،ج:3،ص:403،ط: دار الکتب العلمیۃ)