کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری اپنے والدین کے ساتھ کچھ ناچاقی ہوئی تھی، تو میں نے ان کو کہا ’’ کہ زہ پہ مرگ باندی ہم ستاسو کور تہ راغلم نو پہ ما بہ خزہ طلاق یی‘‘ ( اگر میں موت پر بھی آپ لوگوں کے گھر آیا تو مجھ پر بیوی طلاق ہوگی) اور یہی پورا جملہ میں نے تین بار دہرایاتھا، اور والدین کی زندگی اور موت پر بھی میں اس گھر نہیں گیاہوں، اور اب والدین کا انتقال ہوچکا ہے، تو کیا میں اس گھر میں جاسکتاہوں؟ اور کیا اب میرے جانے سے طلاق واقع ہوگی کہ نہیں؟جو بھی شرعی حکم ہو، تفصیل سے تحریر فرمائیں!
صورت مسئولہ میں سائل کے اپنے والدین کو یہ جملہ کہنے سے’’ کہ زہ پہ مرگ باندی ہم ستاسو کور تہ راغلم نو پہ ما بہ خزہ طلاق یی‘‘( اگر میں موت پر بھی آپ لوگوں کے گھر آیا تو مجھ پر بیوی طلاق ہوگی) اس کی بیوی پر طلاق معلق ہوگئی تھی، چنانچہ سائل اگر والدین کی زندگی میں اس گھر میں داخل ہوتا تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجاتی، لیکن والدین کی وفات کے بعد چونکہ یہ گھراب والدین کا نہیں رہا،بلکہ میراث بن کر ورثاء کی ملکیت بن چکا ہے، لہذا مذکور تعلیق بھی باقی نہیں رہی، اس لئے سائل کے اب اس گھر جانے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ اگر سائل کے والدین ناراضگی کی حالت میں اس دنیاء سے رخصت ہوگئے ہوں تو سائل کو اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار کے ساتھ اپنے والدین کیلئے مسلسل استغفار اور ایصال ثواب کا اہتمام کرنا چاہئے،نیز والدین کی زندگی میں ان کے جو دوست وغیرہ تھے، ان سے تعلقات اچھے طریقے سے استوار رکھنا چاہئے، ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے امید ہے کہ سائل کا مذکورہ گناہ باقی نہ رہے گا۔
کما فی مشکوٰۃ المصابیح: "و عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن العبد ليموت والداه أو أحدهما و إنه لهما لعاق فلايزال يدعو لهما و يستغفر لهما حتى يكتبه الله بارًّا ( باب البر والصلۃ، ج:3 ص:1382، الرقم: 4942، ط: المکتب الاسلامی)
و فی الھندیۃ: رجل قال لامرأته: إن دخلت دار فلان فأنت طالق فمات فلان فصارت الدار ميراثا فدخلت إن لم يكن على الميت دين مستغرق لا يحنث وإن كان عليه دين مستغرق قال الفقيه أبو الليث: لا يحنث أيضا وعليه الفتوى.( کتاب الطلاق الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ، الفصل الثالث، ج:1، ص: 434، ط: ماجدیہ)