طلاق

حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے طلاق یا خلع لینے کا حکم

فتوی نمبر :
98876
| تاریخ :
2026-08-29
معاملات / احکام طلاق / طلاق

حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے طلاق یا خلع لینے کا حکم

میں اپنے شوہر کے ساتھ پانچ مہینے سے ازدواجی زندگی سے محروم ہوں ، میرے شوہر میرے ساتھ نہ رہتے ہیں، نہ چھوڑتے ہیں اور نہ ہی مجھ کو چار ماہ سے خرچہ دیااور دوسری عورتوں سے ملنا، باہرراتوں کو گھومنا، غیر مناسب روابط رکھنا، جس کی وجہ سے میرے لئے اس نکاح کو باقی رکھنا مشکل ہوگیاہے۔ میرے شوہر نے مجھے جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے ، جس سے مجھے بہت تکلیف پہنچی، میرے کوئی بھی حقوق اداء نہیں کررہے، میرے قریب آنا تو دور کی بات ہے، مجھ سے کلام بھی نہیں کرتے، نہ ہی طلاق دینے پہ آمادہ ہے اور نہ ہی ساتھ رہنے پر ۔
میری اٹھارہ (18)ماہ کی بیٹی کو بھی مجھ سےدھوکے سے لے لیا ہے، ایک ماہ ہوگیااور مجھے میری بیٹی سے محروم کیا جارہا ہے، میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے گھر بسانے کی ،لیکن وہ نہیں بساناچاہتا۔
موجودہ حالات میں میرے لیے اس نکاح کو برقرار رکھنا نا قابل برداشت ہوچکا ہے، لہذا معزز مفتی صاحبان سے میری مؤدبانہ گزارش ہےکہ میرے شوہر کی جانب سے حقوق زوجیت کی عدم ادائیگی، نان ونفقہ نہ دینے، جسمانی تشدد، ازدواجی ترک تعلق اور دیکر نامناسب روابط کے باعث میرے نکاح کی تنسیخ عمل میں لائی جائے،تاکہ میں اس ازیت ناک ازدواجی تعلق سے شرعی اور قانونی طورپرنجات حاصل کرسکوں۔ اور ہمیں یہ بھی بتائیں کہ ایسی صورت حال میں ہمیں کیا کرناچاہیئےکہ وہ نہ تو مجھے اپنے پاس رکھنا چاہتے اور نہ ہی طلاق دیناچاہتے ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غیب نہیں جانتا،وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابندہے ،سوال کے سچ یاجھوٹ کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائدہوتی ہے، اس مختصرتمہیدکے بعدواضح ہوکہ سائلہ کی جانب سےدارالافتاء کوشوہرکاموقف جاننے کےلیےجورابطہ نمبر فراہم کیاگیاتھا،اس پرمتعددباررابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ،تاہم شوہرسے رابطہ نہ ہوسکا،لہذاسائلہ کامذکور یکطرفہ بیان اگرحقیقت پرمبنی ہواوراس میں کسی قسم کی خلاف حقیقت یاغلط بیانی سے کام نہ لیاگیاہو اس طورپرکہ سائلہ کا شوہراگر واقعۃً بیوی کو اپنے پاس رکھنے،اس کے حقوقِ زوجیت ادا کرنے اور نان ونفقہ دینے پرآمادہ نہ ہو؛بلکہ وہ اس پر تشدد کا مرتکب ہورہاہواوراس کوطلاق دیکرآزادکرنےیا ازدواجی زندگی بحال کرنے دونوں میں سےکسی بات پربھی آمادہ نہ ہو، تو اس کامذکوررویہ نامناسب اورشرعاًناجائزاورحرام ہے ،اس پرلازم ہے کہ وہ اپنے اس ناجائزطرزعمل سے بازآئے اوربیوی کو اس طرح معلق رکھنےکے بجائے اچھے اورباعزت طریقے سے اس کے ساتھ گھربسانے کی کوشش کرے، ورنہ تسریح بالا حسان کے طریقے پرعمل کرتےہوئےاسے طلاق دیکرآزادکردے ،تاکہ وہ اپنی عزت وآبروکی حفاظت کے ساتھ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوسکے ۔تاہم سائلہ کاشوہراگر کسی بھی طرح گھر آباد کرنےیا طلاق دینے پر آمادہ نہ ہوتو سائلہ عدالت میں تنسیخ نکاح کی درخواست پیش کرکےاپنے نکاح کو ختم کرواسکتی ہے،چنانچہ اگر عدالتی کاروائی مکمل ہونے پرعدالت اس کے حق میں فیصلہ دیدےتو وہ فیصلہ شرعاًوقانوناً معتبر سمجھا جائے گااور سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، بہر دو صورت سائلہ کے شوہر کا اٹھارہ ماہ کی کم سن بچی کومحض باہمی اختلاف کی بنا پر ماں سے علیحدہ کرنا اور اس کو شرعی حضانت و پرورش کے حق سےمحروم رکھنا شرعاً جائز نہیں جس سے احترازلازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافی القرآن المجید : "وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيراً" (سورۃالنساء ،آیت : ۳۵)
وفی الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی: "وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به" لقوله تعالى: {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] "(‌‌باب الخلع، ج:2، ص: 261، مط: دار احياء التراث العربي، بيروت - لبنان)
وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: ومنها المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي» ، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملها بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبها هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجها بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في، قوله تعالى {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة: 228] أن الذي عليهن من حيث الفضل والإحسان هو أن يحسن إلى أزواجهن بالبر باللسان، والقول بالمعروف، والله عز وجل أعلم.( فصل المعاشرة بالمعروف، ج:2، ص:334، مط: ایچ ایم سعید)
وفی البحر الرائق: قالوا ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة بالزوجية والقرابة والملك فبدأ بالأول لمناسبة ما تقدم من النكاح والطلاق والعدة.(قوله تجب النفقة للزوجة على زوجها والكسوة بقدر حالهما)الیٰ قولہ: ولأن النفقة جزاء الاحتباس فكل من كان محبوسا بحق مقصود لغيره كانت نفقته عليه أصله القاضي۔۔الخ(باب النفقة، ج:4، ص:173، مط: رشیدیۃ)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. (الیٰ قولہ) وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير، الخ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 541، مط: ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98876کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات