امامت و جماعت

بہن بھائی کےلیے باجماعت نماز پڑھنےاور ایک رکعت میں

فتوی نمبر :
9899
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بہن بھائی کےلیے باجماعت نماز پڑھنےاور ایک رکعت میں

۱۔ کیا بہن، بھائی جماعت پڑھ سکتے ہیں؟
۲۔ کیا ایک رکعت میں ’’چار قل ‘‘پڑھ سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ بھائی کا بہن کو جماعت کرانا جائز ہے، مگر اس دوران وہ ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے پیچھے کھڑی ہو۔
۲۔ فرائض کی ایک رکعت میں چار یا کم وبیش سورتوں کا جمع کرنا اگرچہ جائز ہے، لیکن ایک ہی رکعت میں اس طور پر کئی سورتوں کا جمع کرنا کہ ان کے درمیان ایک سورت یا کئی سورتوں کو قصداً چھوڑ دیا جائے، مکروہ ہے، جبکہ نوافل میں ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله أما الواحدة فتتأخر) فلو كان معه رجل أيضا يقيمه عن يمينه والمرأة خلفهما ولو رجلان يقيمهما خلفه والمرأة خلفهما بحر، وتأخر الواحدة محله إذااقتدت برجل لا بامرأة مثلها اھ(1/ 566)
وفی الفتاوى الهندية: إمامة الرجل للمرأة جائزة إذا نوى الإمام إمامتها اھ (1/ 85)
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله ويكره الفصل بسورة قصيرة) أما بسورة طويلة بحيث يلزم منه إطالة الركعة الثانية إطالة كثيرة فلا يكره شرح المنية: كما إذا كانت سورتان قصيرتان، وهذا لو في ركعتين أما في ركعة فيكره الجمع بين سورتين بينهما سور أو سورة فتح. وفي التتارخانية: إذا جمع بين سورتين في ركعة رأيت في موضع أنه لا بأس به. (إلی قوله) وفي شرح المنية: الأولى أن لا يفعل في الفرض ولو فعل لا يكره إلا أن يترك بينهما سورة أو أكثر اھ (1/ 546)
وفی الدر المختار: ولا يكره في النفل شيء من ذلك اھ (1/ 547)
وفی خلاصة الفتاویٰ: وکذا الجمع بین السورتین بینهما سور أو سورة واحدة فی رکعة واحدة مکروه (إلی قوله) وهذه کلها فی الفرائض، أما النوافل لا یکره اھ (۱/ ۹۷) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 9899کی تصدیق کریں
1     1007
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات