کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی جنوری 2009میں۔۔۔۔سے ہوئی، شادی کے بعد میری بیوی اور میری ماں میں کشیدگی کی وجہ سےمیں اپنی بیوی کو لیکر الگ ہوگیا اور ایک کرایہ کے فلیٹ میں رہائش اختیار کی،جہاں ہم تقریباً دس سال رہے، اس عرصہ میں میری بیوی کی بد زبانی کی وجہ سے کئی مرتبہ ہماری لڑائی ہوئی اور ایک دفعہ میں نے غصے میں اسے تھپڑ بھی مارا مگر بعد میں معالات ٹھیک ہوجاتے اور ہم نارمل زندگی گزارتے تھے،اس کے بعد 2018 میں ہم بحیثیت کرایہ دار اپنے سسرال میں شفٹ ہوگئے یہاں بھی میری بیوی کا رویہ نہیں بدلا بلکہ جیسے جیسے وقت گزرتا رہا اس کی بدتمیزی اور بداخلاقی میں اضافہ ہی ہوتا گیا،یہاں بھی کئی بار لڑائی ہوئی اور ایک مرتبہ شدید لڑائی کے بعد میں نے اسے تھپڑ مارے اور گھر چھوڑ کر علیحدگی اختیار کرلی،کچھ ماہ کے بعد بیوی نے رابطہ کیا اور بات چیت کے بعد میں اپنی فیملی کے ساتھ رہنے لگا, میری بیوی ایک انتہائی بد اخلاق اور بد تمیز عورت ہے اسی دوران ہماری تین بیٹیاں پیدا ہوئیں جس میں سے ایک کی عمر 16سال،دوسری کی 12سال اور تیسری کی 4 سال ہے،میری بیوی نے گھر میں بد تمیزی کی وجہ سے بہت خراب ماحول کردیا ہے اور کچھ ایسے کام اور بچوں سے متعلق فیصلے کیے جوکہ میری مرضی کے خلاف تھے، اب وہ مجھ سے الگ ہوگئی ہے اور بیٹیاں بھی اسی کے پاس ہیں اور بیوی خلع کا مطالبہ کررہی ہے، اس صورت حال کی تناظر میں درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی درکار ہے
(1)عورت کے خلع مانگنے کی صورت میں کیا میں اپنے پیسوں سے خریدی گئی تمام اشیاء اور میری طرف سے دیا گیا زیور واپس لے سکتا ہوں؟
(2)خلع کے بعد میں اپنے بچیوں کو کتنا شرعی نان نفقہ کتنی عرصہ تک دینے کا پابند ہوں ؟
(3) خلع کے بعد میں اپنی بچیوں سے مہینے میں کتنی بار اور کتنی دیرتک کے لئے ملاقات کرسکتا ہوں۔
واضح ہوکہ نکاح کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور سکون کی زندگی گزارنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، لہذا میاں بیوی کو حتی الامکان اس رشتے کو نبھانےکے لیے ہر ممکن صورت اختیار کرنی چاہیے اور بغیر کسی عذر کے طلاق یا خلع کے ذریعے نکاح جیسی عظیم نعمت کو ختم نہیں کرنا چاہئے۔تاہم اگرمیاں بیوی اس رشتہ کو نبھانے سے قاصر ہوں اور اس کو ختم کرنا چاہتے ہوں تو اس کا بہتر طریقہ یہ کہ شوہر بیوی کو ایک طلاق دے کر اپنے رشتہ ازدواج سے آزاد کردے، لیکن اگر شوہر اس بات پرراضی نہ تو عورت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کو کچھ مالی معاوضہ پیش کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔
(1) لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کی بیوی کا یہ رویہ شرعاً نا مناسب ہے اب اگر ان کی طرف سے زیادتی پائے جانے کے باوجودوہ خلع کا مطالبہ بھی کرتی ہے تو سائل اداکردہ حق مہر کے بقدر معاوضہ کا مطالبہ کرسکتا ہے،اسی طرح اگر مہر سے زیادہ مقدار باہمی رضامندی سے مقرر کرلی گئی تو بھی خلع صحیح ہوگا اور عورت کو پورا معاوضہ دینا لازم ہوگا، لیکن سائل کا حق مہر سے زائد کا مطالبہ کرناشرعاً مناسب نہیں،نیز سائل نے اپنی بیوی کو بطور گفٹ جو اشیاء دی ہوں ان کی واپسی یا قیمت کا مطالبہ کرنا بھی جائز نہیں،اور سائل نے جو اشیاء گھریلوں استعما ل کی غرض سے اپنی پیسوں سے خریدی ہوں وہ اسی کی ملکیت ہے جنہیں علیحدگی کی صورت میں وہ اپنے پاس روکنے کا حق رکھتا ہے، بیوی کا ان اشیاء کو اپنے ساتھ لیجانا جائز نہیں۔
(2)جبکہ سائل پر بچیوں کی شادی تک ان کانان ونفقہ اپنی طاقت کے بقدر لازم ہوگاجب تک بچیوں کے پاس اپنا ذاتی اخراجات کے لیےکوئی مال نہ ہو،
(3)نیز میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہوجانے کی باوجود چونکہ والد اور بچوں کا رشتہ برقرار رہتا ہے اس لئے سائل جب بھی چاہےاور جتنی دیر کیلئے چاہے اپنی بچیوں سے مل سکتا ہے اور اس سلسلہ میں بچیوں کی والدہ کا رکاوٹ بننا شرعاً جائز نہ ہوگا ۔
کمافی الھدایۃ: وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به" لقوله تعالى: {فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229] "فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال" لقوله عليه الصلاة والسلام: "الخلع تطليقة بائنة" ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات والواقع بالكنايات بائن إلا أن ذكر المال أغنى عن النية هنا ولأنها لا تسلم المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة "وإن كان النشوز من قبله يكره له أن يأخذ منها عوضا" لقوله تعالى: {وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ} إلى أن قال {فَلا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئاً} [النساء: من الآية 20] ولأنه أوحشها بالاستبدال فلا يزيد في وحشتها بأخذ المال "وإن كان النشوز منها كرهنا له أن يأخذ منها أكثر مما أعطاها".
وفي رواية الجامع الصغير: طاب الفضل أيضا لإطلاق ما تلونا بدءا ووجه الأخرى قوله عليه الصلاة والسلام في امرأة ثابت بن قيس بن شماس أما الزيادة فلا وقد كان النشوز منها "ولو أخذ الزيادة جاز في القضاء الخ(باب الخلع،ج"2،ص:261،مط: دار احياء التراث العربي)
وفیھاایضاً:وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد الخ(الفصل الرابع فی نفقۃ الاولاد،ج:1،ص:561،مط:ماجدیہ)
وفیھا ایضاً: ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة. الخ(الفصل الرابع في نفقة الأولاد،ج:1،ص:563،مط:ماجدیہ)
وفی الدر المختار: وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الأم وأخذه الأب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك الخ(باب الحضانۃ،ج:3،ص:571،مط:سعید)
وفی الھندیۃ: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي. الخ۔ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 543، مط: ماجدیۃ)
وفی الھدایۃ:قال: "وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل "وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخرالخ(باب الرجوع فی الھبۃ،ج:3،ص:226،مط: دار احياء التراث العربي)