کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے شوہر، مسمیٰ ارشد منہاس، نے 6 اگست 2026ء کو مجھے ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی: "اللہ کو حاضر و ناظر جان کر سمیرہ منہاس کو طلاق دیتا ہوں۔" اور یہ الفاظ تین مرتبہ کہے۔ چونکہ میں حالتِ حمل میں ہوں، اس لیے مجھے معلوم کرنا ہے کہ آیا اس حالت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ حالت حمل میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں سائلہ کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروگوئی سے کام نہ لیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے سوال میں مذکور الفاظ"اللہ کو حاضر ناظر جان کر سمیر امنھاس کو طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ کہہ دیئےہوں، تواس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کرحرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گزقائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ بچے کی پیدائش پر سائلہ کی عدت مکمل ہو نے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی التنزیل العزیز:الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ( سورۃ البقرہ الآیہ 229 )
قال اللہ تعالی: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ ( سورۃ البقرہ الآیہ: 230 )
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج،اھ(الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،ج:1 ص: 355 ناشر: ماجیدیہ)
وفی شرح الھدایۃ:وطلاق الحامل يجوز عقيب الجماع، لأنه لا يؤدي إلى اشتباه وجه العدة، وزمان الحبل زمان الرغبة في الوطء لكونه) ش: أي لكون الوطء م: (غير معلق) ش: أي غير محبل م: (أو يرغب فيها) ش: عطف على قوله في الوطء، والضمير يرجع إلى الحامل يعني أن زمان الحبل زمن الرغبة في الوطء، لأنه في حالة الحبل غير معلق، وهو زمان الرغبة في الحامل م: (لمكان ولده منها) ش: أي لأجل حصول ولده من الحامل م: (فلا تقل الرغبة بالجماع) ش: لأن الولد داع إلى رغبة الرجل في أمه، ولما كان زمان الرغبة لا يقع طلاقها عقيب الجماع.اھ ( طلاق الحامل عقیب الجماع ،ج:5 ص : 291 ناشر :بیروت)
وفی المبسوط للسرخسی : {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] يوجب عليها العدة بوضع الحملا، الخ (باب العدۃ ج: 6 ص : 31 ناشر : المطبعۃ السعادۃ )
وفی الھندیۃ:إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاصحیحا ، الخ(فصل فيما تحل به المطلقة ،ج: 1 ص : 473 ناشر ؛ المطبعۃ الکبری لأمیریہ)