کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے مذکور الفاظ کہے ”زہ اوس ہم تالہ طلاق راکوم ،بیا تالہ طلاق راکوم، بیا تالہ طلاق راکوم ؛جس کا اردو ترجمہ ہے" میں ابھی بھی تمہیں طلاق دیتا ہوں ، پھر تمہیں طلاق دیتا ہوں، پھر تمہیں طلاق دیتاہوں “اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ، اور مستقبل میں ان دونوں کیلئے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب مذکور شخص نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ ” زہ اوس ہم تالہ طلاق راکوم ،بیا تالہ طلاق راکوم، بیا تالہ طلاق راکوم“ (میں ابھی بھی تمہیں طلاق دیتا ہوں ، پھر تمہیں طلاق دیتا ہوں، پھر تمہیں طلاق دیتاہوں) کہہ دیے ،تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا ہےاور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ ایام عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ: ٢٣٠، ج: ١ ، ص : ٣٨٦)
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت،معصية، اھ ( سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ: ٢٣٠، ج:١، ص: ٣٨٧ )
و فی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (کتاب الطلاق، الباب الثانی في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله،(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح،
وفي رد المحتار تحت قوله (وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر.(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: ٣،ص: ٢٤٨، مط: سعيد)
و في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اه (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )