میرے شوہر نے مجھے ڈیڑھ سال پہلے ایک طلاق دی تھی کہ " میں آپ کو طلاق دیتا ہوں " اور ہم نے فوراً رجوع بھی کرلیا تھا اسی دن ، اس کے بعد میرے شوہر نے ایک شرط رکھی تھی کہ اگر فلاں کام کیا تو" میری طرف سے طلاق ہے " وہ کام بھی ہو گیا تھا مجھ سےاور اس کے بعد بھی ہم ساتھ رہتے رہے ہیں، پھر 16 اگست کو پھر سے مجھے میرے گھر آکر میرا نام لیکر کہا کہ " میں حافظہ مریم نذیر احمد کو طلاق دیتا ہوں " جب کہ دوسری اور تیسری بار میرا نام نہیں لیا تھا بلکہ یوں کہا کہ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں ،نیز 16 اگست کی صبح کو ہمارے درمیان ازدواجی تعلق بھی قائم ہوا ہے ،پھر اس کے بعد رات کے وقت جب اس نے طلاق دی اس ٹائم میں حیض کی حالت میں تھی اور میرے شوہر کو اس کا معلوم نہیں تھا کہ میں حیض کی حالت میں ہوں تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس حالت میں طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟ اور اب رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا اگرچہ خلا ف سنت ہے، تاہم اس حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے ڈیڑھ سال قبل اپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں" کہہ کر ایک طلاق دی تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی ، جس کے بعد رجوع کرنے سے رجوع بھی ہو گیا تھا ،اس کے بعد جب سائلہ کے شوہر نے یہ کہا کہ "اگر تم نے فلاں کام کیا تو میری طرف سے طلاق ہے" تو اس سے ایک طلاق معلق ہوگئی تھی ، چنانچہ اس کے بعد جب سائلہ نے مذکورہ کام کرلیا تو اس سے مزید ایک اور طلاق واقع ہوکر مجموعی طور پر دو طلاقیں واقع ہوچکی تھیں اور اس کے بعد دوران عدت رجوع کرنے سے رجوع بھی درست ہو کر نکاح بحال ہوچکا تھا لیکن اس کے بعد سائلہ کے شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا تھا چنانچہ حالیہ واقعہ میں 16 اگست کی رات سائلہ کے شوہر نے اپنی ساس اور دیگر اہل خانہ کے دباؤ اور غصے کی حالت میں سائلہ کا نام لے کر یہ الفاظ کہے "میں حافظہ مریم نذیر احمد کو طلاق دیتا ہوں" اگرچہ اس وقت سائلہ حالت حیض میں تھی، تب بھی ان الفاظ سے سائلہ پر مزید ایک طلاق واقع ہوگئی تھی ، اور اس طرح مجموعی طور پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ۔ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے ،جبکہ سائلہ ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ سائلہ اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،ایساکرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی، اب اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوج ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگاتاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرےیہ مکروہ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال اللہ تبارک وتعالی : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الاٰیۃ (البقرہ:230)
وفی صحیح البخاری : عن أنس بن سيرين، قال: سمعت ابن عمر، قال: طلق ابن عمر امرأته وهي حائض، فذكر عمر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «ليراجعها» قلت: تحتسب؟ قال: فمه؟ وعن قتادة، عن يونس بن جبير، عن ابن عمر، قال: «مره فليراجعها» قلت: تحتسب؟ قال: أرأيت إن عجز واستحمق، (باب إذا طلقت الحائض تعتد بذلك الطلاق،ج7،ص:41،ط:دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)
وفیہ ایضاً: وقال نافع: طلق رجل امرأته البتة إن خرجت فقال ابن عمر: "إن خرجت فقد بتت منه، وإن لم تخرج فليس بشيء" (باب الطلاق في الإغلاق والكره،ج7،ص:45،ط:دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)
وفی الھندیۃ: (والبدعی) من حیث الوقت أن یطلق المدخول بھا وھی من ذوات الاقراء فی حالۃ الحیض أو فی طھر جامعھا فیہ وکان الطلاق واقعا و یستحب لہ أن یراجعھا والاصح أن الرجعۃ واجبۃ ھکذا فی الکافی الخ (ج: 1، ص: 349، کتاب الطلاق ط : ماجدیہ)۔