میری ایک اسلامی بہن اپنے خاوند کے ساتھ مسائل کا سامنا کر رہی ہے،اس کا خاوند د بئی میں ہے اور اسکے ساتھ اچھا سلوک نہیں کررہا ہے،وہ اپنے خاوند کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے کافی عرصہ سے لڑی ہوئی ہے ، اپنی آخری کال میں وہ بہت زیادہ لڑے ، اور وہ سب کچھ کہا جو وہ کہہ سکتے تھے اس کے خاوند نے یہ الفاظ استعمال کئے"جب تم نے میری ماں کے ساتھ شرافت والا سلوک نہیں کیا تو تم میری طرف سے آزاد ہو" جب اس لڑکی نے دوبارہ بحث کی تو اس کے خاوند نے کہا چل آزاد ہو موج کرو تب سے وہ عورت بہت پریشانی میں ہے کہ شاید اس نے مجھے طلاق دیدی ہے،برائے مہربانی آپ شفقت فرمائیں اور وضاحت کریں کہ کیا ابھی تک ان کا نکاح باقی ہے کیونکہ شاید وہ دونوں اس کے نتائج کو نہیں سمجھتے جبکہ ان کے ہاں ابھی ایک بچہ کی ولادت ہوئی ہے اور یہ چیز اس بچے پر برا اثر ڈالے گی ۔
" تم میری طرف سے آزاد ہو" کا جملہ عرفاً طلاق صریح کیلئے مستعمل ہے جس سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے تاہم اگروہ خودہی اپنا واقعہ تفصیلاً لکھ کر ارسال کردیں کہ کس موقع پر یہ جملہ بولا گیا ہے تو اس پر مزید غور کیا جاسکتا ہے۔
كما في الهندية : ولو قال في حال مذاكرة الطلاق .... أو انت حرة یقع الطلاق وان قال لم انو الطلاق لا يصدق قضاء اھ (1/375)والله اعلم بالصواب