میں نے آپ کا فتوی غیر مقلدین حضرات کے بارے میں پڑھا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اہلِ سنت و الجماعت سے کوئی تعلق نہیں، میرا سوال یہ ہے کہ امام کعبہ جن کے بارے میں غیر مقلد کہتے ہیں کہ وہ اہلِ حدیث ہیں، کیا سعودی علماء کی اکثریت کا مذہب یہی ہے ؟ اور اگر یہی مذہب ہے تو پھر ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ غیر مقلدین کا یہ کہنا کہ امام کعبہ غیر مقلد ہیں،سراسر غلط اور ان پر بہتان ہے، جبکہ سعودی علماء کی اکثریت کا تعلق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مسلک سے ہے ،اور انہی کے پیروکار ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ولو كان لكل مذهب إمام كما في زماننا فالأفضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم أو تأخر، على ما استحسنه عامة المسلمين وعمل به جمهور المؤمنين من أهل الحرمين والقدس ومصر والشام، ولا عبرة بمن شذ منهم. اهـ. والذي يميل إليه القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف ما لم يكن غير مراع في الفرائض، لأن كثيرا من الصحابة والتابعين كانوا أئمة مجتهدين وهم يصلون خلف إمام واحد مع تباين مذاهبهم، اھ (1/ 564)۔
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1