کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے مولانا حضرت حاجی امداد اللہ مکی مہاجر کے سوانحِ حیات جاننی ہےیا کوئی ایسی ویب سائٹ بتائیں جہاں سے یہ سب کچھ حاصل ہوجائے۔
شیخ العارف الکبیر امداد اللہ بن محمد امین تھانوی مہاجر مکی ان اولیاء سے ہیں جن کی تعریف و توصیف کسی بیان کی محتاج نہیں، چنانچہ مولانا محمد زکریاؒ لکھتے ہیں: حضرت ،فاروقی النسب اور حنفی المذھب تھے اور طریقت و معرفت کے امام تھے حضرت کی ولادت ۲۲/صفر 1223ھ بمطابق ۱۸۱۷ بروز شنبہ ، بمقام قصبہ نانوتہ ، ضلع سہارنپور میں ہوئی یہ قصبہ سہار نپور سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر ہے، یہ حضرت کےنانیال کا وطن ہے، حضرت کی عمر تین سال کی تھی کہ حضرت سید احمد شہید ؒ کی آغوشِ میں دے دیئے گئے اور حضرت نے بیعتِ تبرک سے نوازا ،حضرت کے عمر ابھی سات ہی برس کی تھی کہ حضرت کی والدہ بی بی حسینی بنت حضرت شیخ علی محمد صدیقی نانوتوی نے انتقال فرمایا، اس لیے آپ نے اپنے شوق سے کلام مجید حفظ فرمایا 1239ھ میں، جبکہ حضرت کی عمر سولہ سال کی تھی مولانا مملوک علی صاحب کے ہمراہ دہلی کے سفر کا اتفاق ہوا، وہاں مشائخِ وقت سے علومِ ظاہری کی تحصیل شروع فرمائی، حضرت مولانا نصیر الدین نواسۂ حضرت مولانا رفیع الدین محدث دہلوی اور شاگردو داماد، حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب قدس سرہ کی خدمت میں رہ کر منازل سلوک طے کیں اور ان سے طریقۂ تقشبندیہ حاصل کیا ۔
حضرت حاجی صاحب کی تصانیف:
۱۔ حاشیہ مثنوی، ۲۔ غذائے روح۱ ،جہاد اکبر ، ۴۔ مثنوی تحفۃ العشاق، ۵۔ رسالہ درغمناک، ۶۔ ارشادِ مرشد، ۷۔ ضیاء القلوب فارسی ، ۸۔ وحدۃ والوجود، ۹۔ فیصلہ ہفت مسئلہ، ۱۰۔ گلزار معرفت، اعلی حضرت کی یہ تالیفات اب کلیاتِ امدادیہ کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔
اور آپؒ بالآخر چوراسی (۸۴) سال تین ماہ بیس روز اس عالمِ تاریک کو منوّر فرما کر ۱۲جمادی الثانی ۱۳۱۷ھ بمطابق ۱۸۹۹ء ،بروز چہار شنبہ بوقتِ اذانِ صبح ،محبوبِ حقیقی سے واصل ہوئے، اور اہلِ دنیا کو مفارقت کا داغ دیا، جنت المعلی میں مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی ثم المکی بانئی مدرسہ صولتیہ کی قبر کے متصل دفن ہوئے، اگر اس سلسلہ میں مزید معلومات مطلوب ہوں تو کتاب ’’مہاجر مکی اور ان کے خلفاء‘‘ ، خرید کر اس کا مطالعہ کریں۔
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1