کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل بریلوی حضرات ہر جگہ یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ دیوبندی گستاخِ رسولؐ ہیں اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی کتاب (صراطِ مستقیم) اور مولانا اسماعیل شہیدؒ نے اپنی کتاب (تقویۃ الایمان) میں یہ فرمایا ہے کہ اگر نماز میں نبی کریم ﷺ کا خیال آئے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اگر گدھے یا بیل کا خیال آئے تو نماز نہیں ٹوٹتی، اگر ہم اس کا جواب دیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان ہی ایسی ہے کہ اگر ہم ان کی طرف خیال لے کر جائیں تو ذہن آگے کی طرف بڑھتا جاتا ہے تو اس طرح نماز میں ان کی بندگی ہوجاتی ہے اور اگر گدھے کا خیال آئے تو ذہن فوراً دوبارہ نماز کی طرف چلا جاتا ہے تو پھر اس کے جواب میں بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ جب ہم تشہد اور درود شریف میں نبی کریم ﷺ کا نام لیتے ہیں تو اس وقت نماز کیوں نہیں ٹوٹتی؟
اولاً: تویہ بات واضح ہو کہ مذکور کتاب ’’صراطِ مستقیم‘‘ مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی نہیں بلکہ حضرت مولانا سید احمد شہیدؒ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے جو دارالعلوم دیوبند کے قیام سے پہلے کے ہیں اور اپنے دَور کے بہت بڑے عالم، ولی کامل اور مجاہد فی سبیل اللہ گزرے ہیں۔
ثانیاً: اس کتاب کی عبارت وہ نہیں جو سائل نے اپنے سوال میں تحریر کی ہے وہ مذکور کتاب کی قطعاً نہیں بلکہ مخترع ہے اس لئے کتاب کی اصل عبارت ذیل میں تحریر کی جاتی ہے:
’’اور شیخ یا انہی جیسے اور بزرگوں کی طرف خواہ جنابِ رسالت مآبﷺ ہی ہوں اپنی ہمت لگادینا اپنے بیل اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے زیادہ برا ہے کیونکہ شیخ کا خیال تعظیم اور بزرگی کے ساتھ انسان کے دل میں چمٹ جاتا ہے اور بیل اور گدھے کے خیال کو نہ تو اس قدر چسپیدگی ہوتی ہے اور نہ تعظیم بلکہ حقیر اور ذلیل ہوتا ہے اور غیر کی تعظیم و بزرگی جو نماز میں ملحوظ ہو وہ شرک کی طرف کھینچ لے جاتی ہے‘‘۔ (صراطِ مستقیم: صفحہ ۱۶۹)-
اس عبارت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ قصداً نماز میں کسی دوسری طرف ہمت کے صرف کرنے کو مخل نماز بتایا گیا ہے کہ نہ کہ مفسدِ نماز اور یہ بات اگر کوئی معاند نہ ہو اور کم از کم مسائلِ شرعیہ سے بھی اسے تھوڑی بہت مناسبت ہو ، اس کے ہاں مسلم ہے جبکہ نماز میں دورانِ درود آپ کا نام لیتے وقت توجہ کا ہوجانا اور بغیر قصد کے آپ کا خیال آنا نہ مخل ہے اور نہ مفسد اور خود صاحبِ کتاب بھی اسے نعمت قرار دے رہے ہیں جیسا کہ اس کتاب کے مذکور موقع پر موجود عبارت سے بھی یہ واضح ہورہا ہے اس لئے سوال میں مذکورعبارت کا جواب دینے کی چنداں ضرورت نہیں چنانچہ صراطِ مستقیم کی عبارت ملاحظہ ہو:
’’اور خود بخود مسائل کا دل میں آجانا اور ارواح و فرشتوں کا کشف ان فاخرہ خلعتوں میں سے ہے جو حضور حق میں مستغرق با اخلاص لوگوں کو نہایت مہربانیوں کی وجہ سے عطا ہوا کرتے ہیں، پس یہ ان کے حق میں ایک ایسا کمال ہے کہ مثال کے موقعہ پر مجسم ہوگیا ہے اور ان کی نماز ایسی عبادت ہے کہ اس کا ثمرہ آنکھوں کے سامنے آگیا ہے‘‘۔ (صراطِ مستقیم: صفحہ ۱۶۸) واﷲ اعلم
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1