کیا اسامہ بن لا دن شہید ہے؟ کیا اسامہ کی لاش پاکستان لے سکتا تھا ؟ ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہیئے ؟
اس میں شک نہیں کہ موصوف کی زندگی کا اکثر حصہ جہاد فی سبیل اللہ میں گزرا مگر انجام کار اپنی موت مرے یا کسی معرکہ میں جان دیدی اس بارے میں مختلف خبریں ہیں، تاہم اگر وہ دشمن کے ساتھ مقابلہ کے دوران چل بسے ہوں تو بلاشبہ شہید ہیں اور اس پر انہیں اجر بھی ملے گا۔
ان کی نعش پاکستان کو لینی چاہیئے یا نہیں اس سلسلہ میں موجودو سیاسی وعسکری قیادت سے رابطہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ ہمیں اپنی آخرت کی فکر، اپنی اصلاح اور سنتِ نبوی کی اتباع کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے خیر و برکت اور عافیت کی دعا کرتے رہنا چاہیئے ۔
کما في سنن الترمذى: عن شداد بن أوس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال الكيس من دان نفسه و عمل لما بعد الموت و العاجز من أتبع نفسه هواها وتمنی علی اللہ (ج ٢ ص : ۷۲)
و في سنن ابی داؤد: ان ابا مالك الاشعرى قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من فصل في سبيل الله عز و جل فمات أو قتل فهو شهيد او وقصه فرسه او بعیرہ او ولدغتہ ھامة او مات علی فراشه وبای حتف شاء الله فانه شهيد و ان له الجنة (ج: ١ ص : ٣٤٥) -
و في تنوير الابصار : الشهيد هو كل مكلف مسلم طاهر قتل ظلما)( قوله) ( أو وجد جريحا ميتا في معركتهم) الخ (ج : ٢ ص : ٢٤٧)
و في الھندیة: وهو فى الشرع من قتله أهل الحرب والبغى وقطاع الطریق او وجد فی معرکة وبه جرح او یخرج الدم من عینه او اذنه او جوفه او به اثر الحرق الخ (ج: ١ ص : ١٦٧) -
کیا حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے دورانِ عدت شادی کی تھی؟
یونیکوڈ تاریخی شخصیات 0