میں نے بریلوی حضرت کی تقریر میں سنا ہےکہ تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے یا ان کے واسطے سے اللہ سے مدد مانگ سکتے ہو ، میرا دل اس بات کو مانتا ہے کیونکہ ہم نعوذ بااللہ ان کو اللہ نہیں مان رہے، بلکہ ان کا نام لیکر اللہ کی بارگاہ میں فریاد کر رہے ہیں، اور اللہ اپنے محبوب کے صدقے ہماری ضروریات پوری فرمائیں گا، برائے کرم مجھے اس سلسلے میں آسان زبان (سلیس ) اردو میں جواب دیجیے ، میں منتظر رہوں گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی ہر انسان کی دعا سنتا اور قبول فرماتا ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگوں کی یا بعض طرق سے دعا زیادہ اسرع إلى الاجابہ ہوتی ہے، اور وسیلہ میں یہی چیز مطلوب ہوتی ہے۔ اس لئے اولیاء الله ، صلحاء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اعمال صالحہ کے وسیلہ سے دعا مانگنا بلا شبہ جائز اور صحابہ کرام و تابعین کے طرز عمل سے ثابت ہے۔ اور اس سلسلہ میں دیوبندی و بریلوی کا کوئی فرق نہیں، مگر یہ خیال کرنا کے وسیلہ کے بغیر دعا قبول ہی نہیں ہوتی یا ایسا کرنے سے نعوذ باللہ اللہ رب العزت قبولیت پر مجبور ہو جاتے ہیں سراسر جہالت پر مبنی ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔ لہذا بایں طور اے اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے میری دعا قبول فرما ، اور جو عمل صحابہ اور تابعین سے ثابت ہے، وہ بدعت کیونکر ہو سکتا ہے، نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس طرح کی دعا کا ثبوت حضرت عثمان بن حنیف کے طرز عمل سے ثابت ہے ۔ جس میں انہوں نے ایک شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کرنے کا حکم دیا کہ اے اللہ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں اور بوسیلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں جو نبی الرحمۃ ہیں" اس حدیث کو طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ معجم صغیر (ص: ۱۰۴) نیز علاء منذری نے بھی امام طبرانی کے قول کی تائید کی ہے۔ الترغيب والترهيب (۱/ ۱۴۳)
قال الله تعالى : {وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا } [البقرة: 89]
وفي تفسير روح المعاني: الأول أن التوسل بجاه غير النبي صلّى الله عليه وسلّم لا بأس به أيضا إن كان المتوسل بجاهه مما علم أن له جاها عند الله تعالى كالمقطوع بصلاحه وولايته اھ (3/ 297)
وفي مشكاة المصابيح: عن عمر بن الخطاب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن خير التابعين رجل يقال له: أويس وله والدة وكان به بياض فمروه فليستغفر لكم ". رواه مسلم اھ (3/ 1765)
وفي سنن ابن ماجه: عن عثمان بن حنيف، (إلی قوله) ويدعو بهذا الدعاء: «اللهم إني أسألك، وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة، يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى، اللهم فشفعه في» .قال أبو إسحاق: هذا حديث صحيح اھ (1/ 441)
وفي المهند على المفند : عندنا وعند مشائخنا يجوز التوسل في الدعوات بالانبياء والصالحين من الاولياء والشهداء والصديقين في حياتهم وبعد وفاتهم بأن يقول في دعائه اللهم انی اسئلك بفلان ان تجيب دعوتی و تقضى حاجتی الى غير ذالك كما صرح به شیخنا و مولانا محمد اسحاق الدهلوی ثم للمهاجر مكي ثم بينه في فتاواه شيخنا و مولانا رشید احمد الجنجوهی ص: ۱۲، ۱۳)