مفتی صاحب! نبی پاک ﷺ کی قبر مبارک پر جاکر کس طرح دعا مانگنی چاہیے؟ اگر اس طرح دعا مانگی جائے کہ ’’اللہ کے نبی آپ ہماری اللہ سے سفارش کریں‘‘۔ تو کیا یہ جائز ہے یا شرک ہے؟ اور کس طرح دعا مانگنی چاہیے؟ یہ بھی بتائیں۔
آپ ﷺ کے روضہ مبارک پر جاکر اللہ سے دعا مانگنے کا کوئی مخصوص طریقہ نہیں، بلکہ وہی طریقہ ہے کہ پہلے حمد و صلوٰۃ پڑھے اور پھر حضور ﷺ کی شفاعت طلب کرے اور اللہ سے اپنی حاجات مانگے، جبکہ مذکور الفاظ کے ساتھ اگر دعا مانگی جائے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے۔
ففی غنية الناسك: ثم یسأل النبی ﷺ الشفاعة فیقول یا رسول اللہ ﷺ أسألك الشفاعة ثلاثًا ویقول فی الثالثة وأتوسل بك الی اللہ فی ان أموت مسلمًا علی ملتک وسنتك (الی قوله) ثم یرجع الی موقفه الاوّل قبالة وجه رسول اللہ ﷺ فیحمد اللہ تعالٰی ویثنی علیه ویمجدہ ویصلی علی النبی ﷺ ویتوسل به ویستشفع به الی ربه ویدعوا رافعًا یدیه بنفسه ولوالدیه ولمن شاء من اقاربه وأشیاخه واخوانه ولمن أوصاہ وسائر المسلمین ویستفتح دعاءہ بالتحمید والصلوة ویختم بذالك وبآمین اه (ص۲۰۴) واللہ اعلم بالصواب!