جناب محترم !السلام علیکم! اگر ہمارے کچھ رشتہ دار بدعت اور گمراہی کے کاموں میں ملوث اور آپ کو بھی اپنی تقریبات مثلاً سوم ،برسی ، چالیسواں وغیرہ میں دعوت دیتے ہوں اور جانے پر ان کی ناراضگی کا بھی خطرہ ہو تو کیا ان کی ناراضگی کے ڈر سے ان تقریبات اور رسومات میں شامل ہوناصحیح ہے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم صرف شرکت کر رہے ہیں، ہم خود تو وہ عمل نہیں کر رہے ہیں تو کیا ایساکرنا گناہ کے زمرے میں آئےگا ؟
ایسی بدعات ورسومات میں شرکت کرنا بھی گناہ ہے، تاہم شرکت کرنے والا اگر ایسا ہو کہ اس کے منع کرنے سے داعی، بدعات ورسومات سے رک سکتا ہو تو پھربجائے شرکت کے اُسے منع کرنا ضروری ہے، ورنہ شرکت سے معذرت کر لینی چاہیے، جبکہ داعی کو چاہیے کہ جب ایک کا م دنیاوآخرت کے فائدہ اور نفع کیلیے یا ثواب کے لیے کرنا چاہتا ہے تو شریعت کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق کرے، اپنے پاس سے مخترع یا محض رسم ورواج پرعمل نہ کرے ۔
وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) : وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم ( الی قولہ) وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. (2 / 240)
وفی الفتاوى الهندية: ولو دعي إلى دعوة فالواجب أن يجيبه إلى ذلك، وإنما يجب عليه أن يجيبه إذا لم يكن هناك معصية، ولا بدعة، وإن لم يجبه كان عاصيا والامتناع أسلم في زماننا إلا إذا علم يقينا بأنه ليس فيها بدعة، ولا معصية كذا في الينابيع. (5/ 343)واللہ أعلم بالصواب!