السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !مسئلہ اول : اگر شوہر نے حق مہر میں 51 ہزار زیور کی صورت میں دینے کا لکھوایا اور اس نے زیور بیوی کو پہلی رات کو دے دیا اور کچھ دن بعد کسی نا اتفاقی کی وجہ سے عورت اپنے باپ کے گھر آگئی اور زیور وہیں رہ گیا اور پھر کچھ دن بعد شوہر نے بیوی کی اجازت کے بغیر اس زیور کو تقریبا دگنے سے زیادہ قیمت پر بیچ دیا اور اب شادی کے 3 سال بعد شوہر یہ کہہ رہا ہے کہ وہ 51 ہزار دے گا، جبکہ لڑکی مطالبہ کر رہی ہے کہ مجھے زیور ہی چاہیے، جو میرا بیچا گیا ہے یا اسکی مقدار متبادل زیور ۔ مسئلہ ثانی : دولہا اور دلہن کو شادی میں ملنے والے تحائف اور زیورات کا کیا حکم ہے ؟ کیا ان کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے ؟ اگر بعد میں لڑکے کے گھر والے زبردستی وہ تحائف اور زیورات لیتے ہیں، جبکہ لڑکی نہیں دینا چاہتی تو اس پر کیا حکم ہے ؟ مسئلہ ثالث : اگر بیوی اور شوہر کے درمیان نہ اتفاقی ہو جائے اس حال میں کہ بیوی حاملہ ہے پھر بیوی اپنے باپ کے گھر چلے جائے تو اس صورت میں بیوی کا علاج جو ڈیلیوری سے متعلق ہو تو اسکا خرچہ کس پر ہے اور ڈیلیوری کے بعد بچہ پر ہونے والا بنیادی اور ضروری خرچہ کس پر ہے ؟ جبکہ بچہ کو 3 سال ہوگئے ہیں کہ وہ ماں کے ساتھ اپنے نانا کے گھر میں ہے۔ اگر شوہر نے ڈیلیوری کا خرچہ باہمی رضا مندی سے ادا کردیا تو کیا وہ لڑکی کے گھر والے سے پیسے کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے؟
صورت مسئولہ میں جب شوہر نے حق مہر میں 51 ہزار کا زیور بیوی کو دے دیا، تو وہ بیوی کی ملکیت بن گیا،پھر جب شوہر نے بیوی کی اجازت کے بغیر اسے بیچ دیا، تو شوہر پر لازم ہے کہ اس کے بقدر متبادل زیور یا اس کی موجودہ مارکیٹ قیمت بیوی کو ادا کرے، تین سال قبل کی قیمت ادا کرنا درست نہیں۔ جبکہ لڑکی کو شادی کے موقع پر شوہر یا اس کے والدین کی طرف سے جو کپڑے اور جوتے وغیرہ دیے گئے ہیں، یہ چونکہ اُسے مالک بنا کر تحفتا دیئے جاتے ہیں ،اس لئے دولہن ان تمام تحائف کی تنہا مالک ہوتی ہے، جس کی بناء پر شوہر یا کسی اور کو بھی ان کے واپس لینے کا اختیار نہیں، اس لئے ان تحائف کو واپس لینے سے احتراز چاہیئے۔ جبکہ شادی کے موقع پر دلہن کو دیے جانے والے سونے چاندی کے زیورات کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ زیورات اُسے مالک بنا کر دیے گئے تھے، تب تو واپسی درست نہیں، البتہ اگر محض استعمال کے لئے مستعار دیے ہوں اور اُسے مالک نہ بنایا گیا ہو ،جیسا کہ اکثر برادریوں میں زیورات اسی ترتیب کے موافق دئیے جاتے ہیں ،تو اس صورت میں بوقتِ علیحدگی ان زیورات کا واپس لینا جائز اور درست ہوگا، اسی طرح ڈیلیوری سے متعلق جو خرچہ ہے وہ اخلاقًا اور عرفا شوہر کی ذمہ داریوں میں داخل ہے، لہذا جب باہمی رضامندی سے شوہر نے یہ خرچہ ادا کر دیا ،تو آج تین سال گزرنے کے بعد اس کے لیے لڑکی کے گھر والوں سے اس رقم کا مطالبہ شرعا درست نہیں، جبکہ بچے کی کفالت پر آنے والے تمام اخراجات بھی بچے کے والد کے ذمہ لازم ہوں گے ۔
كما فی بدائع الصنائع: (أما) الأول فالمغصوب لا يخلو إما أن يكون مما له مثل، وإما أن يكون مما لا مثل له، فإن كان مما له مثل كالمكيلات والموزونات والعدديات المتقاربة، فعلى الغاصب مثله الخ (7/ 150)
وفيها أيضا: وأما) شرط وجوب الضمان فشرط وجوب ضمان المثل والقيمة على الغاصب: عجزه عن رد المغصوب، فما دام قادرا على رده على الوجه الذي أخذه لا يجب عليه الضمان؛ لأن الحكم الأصلي للغصب: هو وجوب رد عين المغصوب الخ(7/ 151)
وفی الشامیۃ: تحت (قوله: لأن الظاهر يكذبه) قال فی الفتح: والذی يجب اعتباره فی ديارنا أن جميع ما ذكر من الحنطة واللوز والدقيق والسكر والشاة الحية وباقيها يكون القول فيها قول المرأة لأن المتعارف فی ذلك كله أن يرسله هدية والظاهر معها لا معه، ولا يكون القول إلا فی نحو الثياب والجارية اھ (إلی قولہ) قال فی النهر: وأقول وينبغی أن لا يقبل قوله أيضا فی الثياب المحمولة مع السكر ونحوه للعرف، اھ قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف فی الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلی، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى فی العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف فی زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا، الخ ( 3/ 153)
وفيها أيضا: كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنهاالخ (3/ 158)
وفی الدر: وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار، قيل عليه وقيل عليها الخ (3/ 579)
وفي رد المحتار تحت: (قوله قيل عليه إلخ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول عليها كأجرة الطبيب اهـ وكذا ذكر غيره، ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح، ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل. [رد المحتار (3/ 580)
وفی الفتاوى الھندیۃ: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا فی الجوهرة النيرة، الخ ( 1/ 560)
عورت کی رضامندی کے بغیر مہر کا سونا فروخت کرنے پر شوہر پر کس حساب سے ضمان لازم ہوگا؟
یونیکوڈ رسومات شادی بیاہ 1