1۔شادی کے موقع پر مہندی کی رسم کیسی ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
2۔ شادی کے موقع پر دولہا سے کہا جاتا ہے دلہن کو اتنے اتنے زیور پہناؤ ، حق مہر کے علاوہ، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3۔ شادی کے موقع پر "کرسی " کی رسم ادا کی جاتی ہے دلہن کی بہن یا کوئی سہیلی دلہن کے قریب کرسی پر بیٹھ جاتی ہیں اور دولہے سے کہا جاتا ہے کہ اتنے پیسے دو تو میں کرسی سے اٹھوں گی اور تم کرسی پر بیٹھ جانا اور پھر خوب دولہے کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ اگر پیسے نہیں تو مردوں میں جا کر بھیک مانگ لو وغیرہ، اس رسم کے متعلق قرآن و حدیث سے رہنمائی فرمائیں ۔
1۔ شادی کے موقع پر مہندی کے نام سے مروجہ رسومات جن میں ڈھول باجے اور گانے وغیرہ کیساتھ ساتھ غیر محارم مردوں اور عورتوں کا باہم اختلاط ہوتا ہے، شرعاً جائز نہیں، بلکہ ہندوانہ رسومات کا حصہ ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
2۔ اگر اسے وسعت ہو اور وہ اپنی مرضی و خوشی سے بلا کسی جبر و اکراہ کے پہنا نا چاہے تو بلا شبہ جائز اور درست ہے ورنہ اُسے مجبور کرنے سے احتراز لازم ہے ۔
3۔ مذکور رسم بلاوجہ شرعی دولہا کی تذلیل و تضحیک پر مشتمل ہونے کے ساتھ ساتھ غیر محرم عورتوں سے اختلاط اور بے پردگی کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے ۔
في تفسير الجلالين : { يا أيها الذين آمنوا لا يسخر } الآية نزلت في وفد تميم حين سخروا من فقراء المسلمين كعمار و صهيب و السخرية الإزدراء و الإحتقار { قوم } أي رجال منكم { من قوم عسى أن يكونوا خيرا منهم } عند الله { و لا نساء } منكم { من نساء عسى أن يكن خيرا منهن و لا تلمزوا أنفسكم } لا تعيبوا فتعابوا أي لا يعب بعضكم بعضا { و لا تنابزوا بالألقاب} لا يدعو بعضكم بعضا بلقب يكرهه و منه يا فاسق يا كافر {بئس الاسم } أي المذكور من السخرية و اللمز و التنابز { الفسوق بعد الإيمان } بدل من الإسم لإفادة أنه فسق لتكرره عادة { و من لم يتب } من ذلك { فأولئك هم الظالمون } اھ(ص: 686)۔
و فی صحيح البخاري حدثني أبو عامر أو أبو مالك الأشعري ، و الله ما كذبني : سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول : " ليكونن من أمتي أقوام ، يستحلون الحر و الحرير ، و الخمر و المعازف، و لينزلن أقوام إلى جنب علم ، يروح عليهم بسارحة لهم (الی قولہ)أمره - صلى الله عليه وسلم - بأخذ حق الضيف عند عدم أدائه وهو في أهل الذمة المشروطة عليهم ضيافة المار عليهم من المسلمين، أو في المضطرين من أهل المخمصة، وإلا فيمتنع أخذ مال الغير إلا بطيب نفسه، وعن هذا أوجب قوم ضمان القيمة۔ (7/ 2733)۔
و في شرح فتح القدير : و في مغني لابن قدامة : الملاهي نوعان محرم و هو الآلات المطربة بلا غناء كالمزمار و الطنبور و نحوه لما روى أبو أمامة أنه عليه الصلاة و السلام قال إن الله تعالى بعثني رحمة للعالمين و أمرني بمحق المعازف و المزامير اھ(7/ 410)۔