کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس بارے میں کہ شادی میں کیا سب رشتے داروں کو جمع کرنا ضروری ہے، حالانکہ حضورﷺ کے دور میں ایسی بات کہیں سننے میں نہیں آئی، کیا یہ بات بھی درست ہے کہ بیٹی کی گھر کے ایک بڑا آدمی جا کر بیٹی کی سسرال چھوڑ آئے؟ کیا یہ طریقہ سنت کے مطابق ہے؟ تفصیل سے راہ نمائی کریں۔
سب رشتہ داروں کوشادی میں بلانا ضروری نہیں، البتہ قریب کے اور اپنے خاص آدمیوں کو بغیر کسی تکلّف اور اہتمام کے مجلسِ نکاح میں شرکت کی دعوت دی جاسکتی ہے اور یہ خود نبی کریمؐ سے بھی ثابت ہے، نیز مذکور طریقہ سے رخصتی کرنا بھی جائز ہے۔