السلام علیکم!
ہمارے سیالکوٹ میں ایک عجیب رواج بن چکاہے کہ شادیوں پر موبائل، ڈالر اور بہت سا روپیہ لٹاتے پھینکتے ہیں , سوال یہ ہے کہ کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے؟ اور کیا اس لوٹ مار (اس وقت واقعی لوٹ مار کی حالت ہوتی ہے) سے حاصل کیے گئے ڈالر، روپیہ اور موبائل وغیرہ کو استعمال کیا جاسکتاہے؟
شادی بیاہ میں مروجہ طریقوں پر پیسے لٹانا اور پھینکنا فضول خرچی (اسراف) کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں جس کی وجہ سے اس عمل کا ارتکاب کرنے والا شخص گناہ گار ہورہاہے جس سے بہر صورت اجتناب اور ایسی خوشی کے مواقع میں شرعی حدود کی پاسداری شرعاً لازم اور ضروری ہے، تاہم اس طریقہ پر لٹائی جانے والی رقم اور اشیاء عموماً جمع کرنے والوں کا حق تسلیم کیا جاتاہے اس لئےان کے لئےاسے اپنے استعمال میں لانے میں کوئی حرج نہیں۔
کماقال اللہ تعالٰی: ﴿یا بنی آدم خذوا زینتکم عند کلّ مسجد وّکلوا واشربوا ولا تسرفوا انّه لا یحبّ المسرفین﴾ (الاعراف: ۳۱)-
وفی تفسیر القرطبی: وقد اختلف فی الزائد علی قدر الحاجة علی قولین: فقیل حرام، وقیل مکروه، قال ابن العربی: وهو الصحیح، (۷/ ۱۹۱)-
وفیه ایضًا: ولا تسرفوا ’’ای فی کثرة الأکل، وعنه یکون کثرة الشرب، وذلك یثقل المعدة، ویثبط الإنسان عن خدمة ربه، والأخذ بحظه من نوافل الخیر، فإن تعدی ذلك إلی ما فوقه مما یمنعه القیام الواجب علیه حرم علیه، فإن تعدی ذلك إلی ما فوقه مما یمنعه القیام الواجب علیه حرم علیه، وکان قد أسرف فی مطعمه ومشربه. (۷/ ۱۹۴)-
وفی صحیح البخاری: قول اللہ تعالٰی: ﴿قل من حرّم زینة اللہ الّتی اخرج لعباده﴾ (الاعراف: ۳۲) وقال النبیﷺ: ’’کلوا واشربوا والبسوا وتصدقوا، فی غیر اسراف ولا مخیلة‘‘ وقال ابن عباس: کل ما شئت، والبس ما شئت (ص: ۱۴۱) ماأخطأتك اثنتان: سرف، أو مخیله‘‘ (۷/ ۱۴۰)-
وفی الموسوعة الفقهیة الکویتیة: یختلف حکم الإسراف بحسب متعلقه، کما تبین فی تعریف الإسراف، فذهب بعض الفقهاء إلی أن صرف المال الکثیر فی أمور البر والخیر والإحسان لا یعتبر إسرافا، فلا یکون ممنوعا أما صرفه فی المعاصی والترف وفیما لا ینبغی فیعتبر إسرافا منهیا عنه، ولو کان المال قلیلًا. (۴/ ۱۷۸)-