ہماری مسجد میں ایک ڈولی رکھی ہوئی ہے (جس میں شادی کے دن عورت بیٹھ کر اپنے شوہر کے گھر جاتی ہے اور جب وہ عورت بیٹھ جاتی ہے تو دو بندے اسے اٹھاتے ہیں) مسجد کی انتظامیہ ڈولی کے ۵۰۰ روپے لیتی ہے جو شادی کے دن ڈولی لے جاتا ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ہندوؤں کی رسم ہے اس لئے مسجد کے کھاتے میں ڈولی نہیں ہونی چاہئے، کیا ہمیں ڈولی رکھنی چاہئے؟ کیا ڈولی کی رقم مسجد میں خرچ کی جاسکتی ہے؟ جواب دیکر مشکور فرمائیں۔ جزاک اللہ
واضح ہو کہ ڈولی (پالکی) کو کرایہ پر دیکر اس کی اجرت مسجد کی ضروریات میں صرف کرنا جائز ہے، اس کو خالص ہندوانہ رسم قرار دینا درست نہیں کیونکہ ازواجِ مطہرات کیلئے شادی کے علاوہ بعض دیگر مواقع پر پالکی کا استعمال ثابت ہے۔
فی الدر المختار: (ولو قف العقار ببقرہ وأکرتہ) (إلی قولہ) (ویبدأ من غلتہ بعمارتہ) ثم ما ھو أقرب لعمارتہ کإمام مسجد ومدرس مدرسۃ یعطون بقدر کفایتھم ثم السراج والبساط اھـ وفی الشامیۃ تحت (قولہ: ویبدأ من غلتہ بعمارتہ) أی قبل الصرف إلی المستحقین۔ اھـ (ج٤، ص٣٤٤) واللہ اعلم