السلام علیکم !
میرا نام رومیسہ اختر ہے، اور میں کراچی میں رہتی ہوں، میرا نکاح 29 اپریل 2024 کو ہونا ہے، جس سے میرا نکاح ہونا ہےوہ کینیڈا میں رہتے ہیں، اور وہ نکاح کے لئے کراچی آرہے ہیں،نکاح میں جعلی رخصتی دکھانی ہے،جس میں قرآن یا اس کی جگہ ایسی چیز سر پہ دکھانی ہے کہ جس سے لگے رخصتی ہورہی ہے،اور رات کے لئے ہوٹل کی بکنگ بھی شو کرنی ہے،ساتھ میں فیملی فوٹوز بھی سبمٹ کرنی ہیں،یہ سب اس لئے کرنا ہے، تاکہ وہ کینیڈا میں مجھے بلانے کے لئے میرا وہاں کیس فائل کرسکے،اور کینیڈا گورنمنٹ کی یہ ریکوائر منٹ ہےکہ رات گزارنے کی ہوٹل بکنگ، رخصتی، ولیمہ سب کچھ پروف کے ساتھ ان کو شو کرنی ہے،لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہاکہ یہ سب کچھ کرنا مناسب ہے یا نہیں؟کیونکہ حقیقت میں یہ صرف ہمارا نکاح ہوگا،باقی سب کچھ صرف گورنمنٹ کو شو کرنے کے لئے ہے -
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ اور اسکے اہل خانہ کو چاہیئے کہ رخصتی اور اس موقع پر ہونے والی تقریبات کے جعلی کاغذات اور تصاویر وغیرہ بنانے کے بجائے نکاح کے موقع پر ہی رخصتی کی مختصر سے ترتیب بنائی جائے، تاکہ دھوکہ دہی اور جعل سازی سے بچاجائے۔
کما قال اللہ تعالٰی: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (77) سورۃ آل عمران)۔
وفی صحیح البخاری: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان" الحدیث (ج1 صـ16 باب علامۃ المنافق ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی مشکوۃ المصابیح: وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال: أصابته السماء يا رسول الله قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ من غش فليس مني» . رواه مسلم (ج2 صـ865 ط: المکتب الاسلامی)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (من غش) أي خان وهو ضد النصح (فليس مني) أي ليس هو على سنتي وطريقتي. قال الطيبي: من اتصالية كقوله - تعالى - {المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض} [التوبة: 67] (رواه مسلم) وروى الترمذي الجملة الأخيرة بلفظ " «من غش فليس منا» " ورواه الطبراني في الكبير وأبو نعيم في الحلية عن ابن مسعود بلفظ " «من غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار» الحدیث (ج5 صـ1935 دار الفکر بیروت)۔