مفتی صاحب برائے مہربانی مجھے بتائیے کہ اگر مندرجہ ذیل تفصیل کے مطابق اگر طلاق دی جائے کہ میرے دو بھائیوں نےمیرے واسطے طلاق نامہ لکھا کہ میں اپنی بیوی کو تین طلاق ایک سطر میں دیتا ہوں ،ان کا مجھے پریشانی میں ڈالنے کی وجہ سے میں نے اس طلاق نامہ پر صرف سائن کیا، کیا طلاق ہو جائے گی ؟ اور کیا میرے لئے اپنے بیوی کے پاس جانے کا کوئی راستہ ہے ؟ جزاک اللہ!
جب سائل کو معلوم تھا کہ اس پیپر میں تین طلاقیں درج ہیں ،تو اس پر دستخط کرنے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کرحرمت مغلظہ بھی ثابت ہو چکی ہے، جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا اس لئے ان دونوں پر ایک دوسرے سے علیحدگی لازم ہے ، اور عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسرے مسلمان مرد کیساتھ نکاح بھی کر سکتی ہے۔
قال اللہ تعالیٰ:فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرہ:230)
وفی الدرالمختار: [فروع]كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا اھ(3/ 246)
وفی ردالمحتار: (قوله إن مستبينا) أي ولم يكن مرسوما أي معتادا وإنما لم يقيده به لفهمه من مقابلة وهو قوله: ولو كتب على وجه الرسالة إلخ فإنه المراد بالمرسوم (قوله مطلقا) المراد به في الموضعين نوى أو لم ينو اھ(3/ 236)
وفی الدرالمختار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا اھ(3/ 244)
وفی الھندیہ: (الفصل السادس في الطلاق بالكتابة): وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اھ(1/ 446)