جناب میرا پہلا سوال یہ ہے کہ آج کل انٹرنیٹ پہ بہت سی کمپنیز اپنا کام دے رہی ہیں اور بہت سارے لوگ اپنے گھر میں بیٹھ کر اُن کا کام کر رہے ہیں، میں نے MBA فائنانس کیا ہوا ہے، اگر میں ان ویب سائٹس پہ کام کرتا ہوں تو مجھے اگر جو بھی منصوبہ ملےگا اُس میں بینک کے کام بھی ہوتے ہیں۔ تو اگر میں یہ کام کرتا ہوں تو کیا میرے لئے یہ کمائی حلال ہوگی؟ میں کیسے سود کے کمائی سے بچ سکتا ہوں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ظاہر ہے میں نے MBA فائنانس کیا ہوا ہے اور مجھے جہاں بھی نوکری ملی وه فائنانس کی ہوگی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جہاں بھی نوکری کرونگا اُن کے بینکوں میں اکاونٹ بھی ہونگے اگر میں ان کی نوکری کرتا ہوں تو مجھے بینکوں سے بھی معاملہ کرنا پڑے گا اور اگر نہیں کرتا تو کمپنیز مجھے نکال دیگی ۔ تو ایسی صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟ کیا مجھے بھی سود جیسی لعنت کی دوڑ میں شامل ہونا چاہئیے یا گھر بیٹھ جانا چاہئیے ؟ براہِ مہربانی میرے ان سوالوں کا جلدی جواب دیجئے گا تاکہ میں گناہ گار ہونے سے بچ جاؤ۔ مجھے حالات اچھے کرنے کے لیے کوئی اچھی سی دُعا بھی بتائیے جو میں پڑھوں اور میرے حالات اچھے جائیں, استخارہ کر کے بتائیے گا، کیونکہ میں نے بہت سے وظائف پڑھے ہیں، پھر کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔
سائل اگر کسی ایسی کمپنی میں ملازمت اختیار کرے جس کا بنیادی کاروبار شرعاً جائز و حلال ہو اور کبھی کبھار اُسےبینک سے معاملات کرنے پڑھتے ہوں تو اُس سے اس کی ملازمت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا ، اِلا یہ کہ اس کی ملازمت ہی بنک کے معاملات انجام دینے سے متعلق ہو، تو اس صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے متعلق وضاحت لکھ کر اس سے متعلق بھی حکمِ شرعی سے آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جبکہ وہ درجِ ذیل وظائف کی پابندی کرے تو ان شاء اللہ اسے بہتر اور حلال روزگار میسر ہوگا۔ مندرجہ ذیل دو آیتیں فرض نمازوں کے بعد اور نوافل کے بعد اور سوتے وقت پڑھا کریں ان شاء اللہ رزق میں وسعت اور مال میں ترقی نصیب ہوگی اور تنگی دور ہو جائیگی لیکن پورے یقین کیساتھ پڑھنا ضروری ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ:{قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (26) تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ } [آل عمران: 26، 27]
وفي إعلاء السنن: قال ولا يجوز الإستيجار بالمنفعة المحرمة كالزنا والزمر والنوح والغناء وبه قال مالك والشافعي وأبو حنيفه وصاحباه الخ (ج ١٦ ص ٢١۲)
وفي تكملة فتح الملهم: قوله ’’وكاتبه‘‘لأن كتابة الربا اعانة عليه ومن هنا ظهر ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا، كالكتابة أو لحساب، فذاك حرام، الوجهين: الأول اعانة على المعصية، والثاني: أخذ الأجرة من المال الحرام، فاني معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا، وأما اذا كان العمل لا علاقة له بالربا فانه حرام للوجه الثاني فحسب فاذا وجد بنك معظم دخله حلال، جاز فيه التوظف للنوع الثاني من الأعمال، والله اعلم (۱/ ۶۱۹)-
وفي الفتاوى الهندية: ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو اھ (4/ 449) -