السلام علیکم! عرض یہ کرنا ہے کہ اگر کسی کی دو بیویاں ہوں اور ایک بیوی دوسری بیوی پر کسی شیعہ یا ہندو سے جادو کروادے، تو میں نے سنا ہے کہ جادو کروانے والا کافر ہو جاتا ہے، تو کیا مذکورہ صورت میں جس عورت نے جادو کروایا ہے اس کا نکاح باقی رہے گا یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں مذکور خاتون اگرچہ بہت سخت گناہ کبیرہ کی مرتکب ہوئی ہے،مگر اس کی وجہ سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئی اور نہ اس کا نکاح ختم ہوا، تا ہم اُس کو چاہیے کہ بصدق دل تو بہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسے قبیح عمل سے مکمل احتراز کرے ۔
کما في الدر المختار: واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين (إلى قوله) وحراما، وهو علم الفلسفة والشعبدة والتنجيم والرمل وعلوم الطبائعيين والسحر۔اھ (1 /42)
وفي رد المحتار: تحت (قوله: والسحر) هو علم يستفاد منه حصول ملكة نفسانية يقتدر بها على أفعال غريبة لأسباب خفية. اهـ. ح. وفي حاشية الإيضاح لبيري زاده قال الشمني: تعلمه وتعليمه حرام. أقول: مقتضى الإطلاق ولو تعلم لدفع الضرر عن المسلمين وفي شرح الزعفراني: السحر حق عندنا وجوده وتصوره وأثره. وفي ذخيرة الناظر تعلمه فرض لرد ساحر أهل الحرب، وحرام ليفرق به بين المرأة وزوجها، وجائز ليوفق بينهما اھ (1 /44)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1