کیا کلمۂ کفر کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
قصداً وعمداً کلمۂ کفر کہنے سے تو مسلمان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور نکاح ٹوٹ جاتا ہے ، البتہ سائل نے کسی خاص کلمے اور اس کو کلمہ کہنے والے کی نیت اور حالت کی مکمل تفصیل ذکر نہیں کی، تا کہ اس کے متعلق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جا سکتا ، لہذا سائل کو چاہیئے کہ مکمل تفصیل کےساتھ سوال دوبارہ ای میل کردے ، ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
کما فی الفتاوى الهندية: إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا لا يكفر وقال بعضهم: يكفر، وهو الصحيح عندي كذا في البحر الرائق، ومن أتى بلفظة الكفر، وهو لم يعلم أنها كفر إلا أنه أتى بها عن اختيار يكفر عند عامة العلماء خلافا للبعض، ولا يعذر بالجهل كذا في الخلاصة، الهازل، أو المستهزئ إذا تكلم بكفر استخفافا واستهزاء ومزاحا يكون كفرا عند الكل، وإن كان اعتقاده خلاف ذلك. الخاطئ إذا أجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ بأن كان يريد أن يتكلم بما ليس بكفر فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ لم يكن ذلك كفرا عند الكل كذا في فتاوى قاضي خان۔اھ (2/276)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1