اگر شوہر ایک سال یا اس سے زیادہ بغیر شرعی عذر کے اپنی بیوی اور بچوں کو دوسرے ملک اکیلے چھوڑ دے بغیر کسی مالی امداد کے اپنی والد وہ کی خواہش پر تو اس طرح میاں بیوی کا آپس میں کوئی رشتہ قائم رہتا ہے ؟ جب کہ ایسا کرنے پر بیوی بالکل راضی نہ ہو ۔
واضح ہو کہ جب تک شوہریااس کی طرف سےمقررکردہ وکیل بیوی کاطلاق یاخلع نہ دیدےنکاح بر قرار رہتا ہے ، صرف ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس دوران چاہے جتنا بھی عرصہ گزر جائے، لیکن شوہر کا بغیر کسی عذر کے صرف والدین کے کہنے پر اس طرح کر ناشر عا جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے، شوہر کو چاہیے کہ والدین اوربیوی بچوں کے حقوق کواپنی اپنی جگہ اداکرنےکی کوشش کرے۔ تاہم اگر شوہر با وجود استطاعت کے اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا انتظام کیے بغیر عرصہ دراز کے لیے کسی دوسرے ملک چلا جائے اور بیوی کے لیے نان و نفقہ نہ بھیجے اور بیوی کے پاس بھی کوئی دوسرا انتظام نہ ہو اور اس کی وجہ سے بیوی بچوں کو کافی مشکلات در پیش ہوں تو ایسی مجبوری کی صورت میں عورت عدالت جاکر شرعی طریقہ کے مطابق نان و نفقہ کو بنیاد بنا کر اپنا نکاح فسخ کرواسکتی ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے حیلہ ناجزہ کا مطالعہ فرمائیں)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1