میں نے اپنے بیوی سے مذاق میں کہا کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے تو اس نے کہاپشتو میں ( اسلام پکے لا چا راوستہ) و ہ کہہ رہی ہے غلطی سے بولی ہوں، اس وقت پتہ نہیں تھا، کیا اس طرح کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
اسلام میں چار شادیوں کی اجازت پر سوال میں مذکور الفاظ کہنا انتہائی نامناسب اور قبیح ہیں جس کی وجہ سے آدمی دائرۂ اسلام سےنکل جاتا ہے، اور یہ ایک مسلمان کی شان سےبھی بعید ہے ، تاہم سائل کی بیوی نے مذکور الفاظ دینِ اسلام کی توہین و تحقیر کی غرض سے نہ کہے ہوں،بلکہ غلطی اور بے خیالی سے زبان پر آگئے ہوں جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے تو اس سے اس کے ایمان اور نکاح پر اثر نہیں پڑا ، مگر اس طرح الفاظ زبان پر لانا انتہائی خطرناک ہے، اس کی وجہ سے سائل کی بیوی سخت گناہ گار ہوئی ہے، جس پر تو بہ واستغفار اور آئندہ کیلئے اس سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
کما في الفتاوى التاتارخانية: وسئل عبد الكريم عمن قال لامرأته حالة المعاتبة على ترك الصلاة ، أما تخافين الله ؟ قالت : لا، قال: ينبغي أن لا تكفر بهذا القدر إلا إذا كانت هذه المقالة على وجه الاستخفاف والاستهزاء اھـ (5/469)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1