اگر شوال یا ذیقعدہ میں عمرہ کیا، تو کیا اب حج کرنا فرض ہو جائے گا ، جبکہ عمرہ کرتے وقت حج کرنے کی نیت نہیں تھی ؟ میں نے یہاں کچھ لوگوں سے سنا ہے کہ شوال کا چاند نظر آنے کے بعد عمرہ کیاتواب حج لازم ہوگا ۔براہ کرم راہنمائی فرمائیں ۔
اگر ادائیگی حج تک کے لیے ویزہ اور زادِ سفر موجود ہو تو اس صورت میں حج لازم ہو جائے گا، ورنہ نہیں ۔
کما فی البحر الرائق : فی فتح القدير أنه لو بدا له بعد العمرة أن لا يحج من عامه لا يؤاخذ بذلك فإنه لم يحرم بالحج بعد اھ (2/395)۔
و فی الہدایۃ : الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاصلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا اھ (1/232)۔