احکام حج

رمی کے لیے کسی اور کو وکیل بنانا

فتوی نمبر :
35083
| تاریخ :
2018-08-11
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

رمی کے لیے کسی اور کو وکیل بنانا

السلام علیکم ! اگر وہیل چیئر پر حج کر رہا ہے تو کیارمی کے لیے کسی اور کو ولی بنا سکتا ہے اور دوسرا شخص معذور حاجی کی طرفسے کنکریاں مار سکتاہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جو شخص کسی بیماری اور معذوری کی وجہ سے وہیل چیئر پر حج کررہا ہو اور وہ خود رمی کرنے سے بالکل عاجز ہو تو اپنی رمی کیلئے کسی کو بھی اپنا وکیل مقرر کرسکتا ہے اور وکیل کی رمی موکل کی رمی تصور ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی غنیۃ الناسک: ان یرمی بنفسہ، فلا تجوز النیابۃ فیہ عند القدرۃ، وتجوز عند العذر فلو رمی عن مریض بامرہ ۔ الخ (ص۱۸۷)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: وتجوز الإنابۃ فی الرمی لمن عجز عن الرمی بنفسہ لمرض أو حبس، أو کبر سن أو حمل المرأۃ، فیصح للمریض بعلۃ لا یرجی زوالہا قبل انتہاء وقت الرمی۔ الخ (ج۵، ص۳۲۳) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اشرف حاتم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35083کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات