احکام حج

دورانِ حج قربانی و نماز کا حکم

فتوی نمبر :
23550
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

دورانِ حج قربانی و نماز کا حکم

حج میں جانے کے بعد انسان مسافر رہتاہے یا مقیم ہوجاتاہے ؟اگر مسافر ہے کیا اس پر مال کی قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟ اور وہ تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں عرفات، مزدفلہ میں کتنی رکعت نماز ادا کرے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دورانِ حج مکہ مکرمہ میں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو عرفات، مزدلفہ اور منیٰ میں پوری نماز پڑھنا لازم ہے اور صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں حج کی قربانی کے علاوہ عید الاضحی کی قربانی بھی لازم ہوگی ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ: الاضحیۃ واجبۃ علی کل مسلم مقیم موسر فی یوم الاضحٰی عن نفسہ وعن ولدہ الصغار اھ (ج:۴ ص:۴۴۳)
وفیہا ایضًا: واذا نوی المسافر ان یقیم بمکۃ ومنٰی خمسۃ عشر یومًا لم یتم الصلٰوۃ اھ (ج: ۱ ص: ۱۶۷) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 23550کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات