السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! حدودِ حرم اور میقات میں کیا فرق ہے ؟یایہ دونوں ایک ہی ہیں، کسی نے بتایا کے مسجد عائشہ رضی اللہ عنھا دراصل میقات نہیں ہے ، تو یہاں سے عمرہ کرنا کیسا ہے ؟یا عمرہ درست ہوگا یا نہیں ؟یایہاں سے عمرہ کرنے کا کم ثواب ہے بنسبت دوسری میقات کے جیسےذولحلیفہ یا یلملم ؟
میقات اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جہاں سے آفاقی حج یا عمرہ کا احرام باندھتے ہیں، چنانچہ حدودِ حرم کے رہائشی یا شرعی طریقہ پر ایک دفعہ داخل ہونے والے اگر حج یا عمرہ کا احرام باندھنا چاہیں تو حدودِ حرم جہاں ختم ہوتی ہے وہی اس کے لیے میقات ہے، وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کر سکتے ہیں ، جبکہ مسجد عائشہ ؓحدودِ حرم سے باہر اور میقات میں داخل ہے، لہذا یہاں سے بھی احرام باندھ کر عمرہ بجالانا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما فی الشامیۃتحت : (قوله والتنعيم أفضله) هو موضع قريب من مكة عند مسجد عائشة، وهو أقرب موضع من الحل ط أي الإحرام منه للعمرة أفضل من الإحرام لها من الجعرانة، وغيرها من الحل اھ (3/497) ۔
و فی الدر المختار : (و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل) ليتحقق نوع سفروالتنعيم أفضل اھ (2/479) ۔