میرا سوال ہے کہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہا ہوں اور میری ایک رکعت نکل گئی، میں امام صاحب کے ساتھ آخری قعدہ میں بیٹھا ہوں اور امام صاحب کے ساتھ ایک طرف سلام پھیر دیا، پھر مجھے یاد آیا کہ میری ایک رکعت نکل گئی تھی، پھر میں نے کھڑے ہو کر نماز پوری کرلی تو کیا اس حالت میں سجدۂ سہو کرنا پڑے گا؟ اور اگر دونوں طرف سلام پھیر دیا تو کیا حکم ہے؟ براہِ کرم وضاحت کیجیے۔
اس صورت میں یاد آنے پر سائل کو چاہیۓ کہ اپنی باقی ماندہ نماز پوری کرلے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرے ۔
في حاشية ابن عابدين : (قوله و المسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام ، بل يسجد معه و يتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء ، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت و إلا لا ، و لا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه ؛ و إن سلم بعده لزمه لكونه اھ (2/ 82)۔