امامت و جماعت

مسبوق کا امام کےسلام کے بعد بھول کر ایک طرف سلام پھیر نےکا حکم

فتوی نمبر :
20428
| تاریخ :
2013-09-14
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسبوق کا امام کےسلام کے بعد بھول کر ایک طرف سلام پھیر نےکا حکم

میرا سوال ہے کہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہا ہوں اور میری ایک رکعت نکل گئی، میں امام صاحب کے ساتھ آخری قعدہ میں بیٹھا ہوں اور امام صاحب کے ساتھ ایک طرف سلام پھیر دیا، پھر مجھے یاد آیا کہ میری ایک رکعت نکل گئی تھی، پھر میں نے کھڑے ہو کر نماز پوری کرلی تو کیا اس حالت میں سجدۂ سہو کرنا پڑے گا؟ اور اگر دونوں طرف سلام پھیر دیا تو کیا حکم ہے؟ براہِ کرم وضاحت کیجیے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس صورت میں یاد آنے پر سائل کو چاہیۓ کہ اپنی باقی ماندہ نماز پوری کرلے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

في حاشية ابن عابدين : (قوله و المسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام ، بل يسجد معه و يتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء ، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت و إلا لا ، و لا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه ؛ و إن سلم بعده لزمه لكونه اھ (2/ 82)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 20428کی تصدیق کریں
0     708
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات