امامت و جماعت

تعلیم کی غرض سے صلاۃ التسبیح کی جماعت کرانے کا حکم

فتوی نمبر :
23110
| تاریخ :
2014-07-11
عبادات / نماز / امامت و جماعت

تعلیم کی غرض سے صلاۃ التسبیح کی جماعت کرانے کا حکم

السلام علیکم! مفتی صاحب برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ ، صلاۃ التسبیح کی نماز پڑھانا عورت کے لیے جائز ہے؟ جبکہ وہ دوسری عورتوں کو سکھانے کی نیت سے ہر جمعہ کو پڑھائے ، اور کیا پڑھانے والی عورت کی اپنی نماز ہوگی یا وہ خود الگ سے پڑھے گی؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں ۔جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صلاة التسبیح کی جماعت مردوں ، عورتوں دونوں کے لیے مکروہ تحریمی ہے، جس سے احتراز لازم ہے، اور اگر دیگر عورتوں کو تعلیم و تربیت مقصود ہو ، تو بیان کے ذریعے ان کو سکھایا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (و) يكره تحريما ( جماعة النساء) ولو فى التراويح اھ
وفي رد المحتار : تحت (قوله ولو فى التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضا أو نفلا اھ (٥٤٥/١)۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حبیب اللہ قاسم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 23110کی تصدیق کریں
1     1306
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات