کیا کبوتر باز اور تاش کھیلنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ جب کہ اس کو کئی بار روکا بھی گیا ہے اور اس مام نے شیعہ کی جنازہ میں شرکت بھی کی ہے، ضرور جواب دیں دلیل کے ساتھ۔ جزاک اللہ
امام موصوف کا مستقل مشغلہ اگر کبوتر بازی اور تاش کا نہ ہو اور شیعہ کی نمازِ جنازہ دانستہ نہ پڑھی ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز بلاکراہت جائز ہے، ورنہ ایسا شخص اگر اپنے اس گناہ پر اصرار کرنے والا ہو تو اس کو اپنے اختیار سے امام بنانے سے احتراز چاہئے۔
فی الدر: وفی النھر عن المحیط: صلّی خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعۃ۔ (ج۱، ص٥٦٢)
وفی رد المحتار: (قولہ نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفھما أولٰی من الإنفراد، لکن لا ینال کما ینال خلف تقي ورع الخ۔ (ج۱، ص٥٦٢)
وفی الھندیة: ویکرہ اللعب بالشطرنج (إلی قولہ) وکل لھو سوی الشطرنج حرام بالإجماع۔ الخ (ج٥، ص٣٥٢) واللہ اعلم باصواب