محترم جناب مفتی صاحب!
میرا ایک دوست ہے، جو سلسلۂ نقشبندیہ سے وابستہ ہے، وہ اور ان کی جماعت والے اپنے آپ کو دیوبندی کہلاتے ہیں اور ان کا تعلق مولانا اللہ یار خان کے ساتھ ہے، طریقۂ ذکر یہ ہے کہ ایک سانس لفظ ”اللہ“کے ساتھ اندر لیتے ہیں اور ایک لفظ ”ہُ “کے ساتھ باہر نکالتے ہیں، آیا یہ بدعت تو نہیں؟
2- تبلیغی جماعت کے بارے میں بھی ایک اشکال ہے، آج کل وہ لوگ ذکر و اذکار سے ذرہ دور ہیں، جبکہ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تو یوں فرمایا ہے کہ”بغیر ذکر کے یہ ایک فتنہ بن جائے گا“ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
مذکور طریقہ سے ذکر کرنا بھی جائز ہے اور تبلیغی جماعت والوں سے متعلق یہ کہنا کہ وہ ذکر نہیں کرتے، حقائق کی روشنی میں غلط ہے، بلاتحقیق اس قسم کی باتیں کرنے سے احترازلازم ہے۔
کما قال الله تعالىٰ: {الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا۔ الآیة} [آل عمران: 191]
وفي مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يقول الله تعالىٰ: أنا عند ظن عبدي بي وأنا معه إذا ذكرني فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي وإن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منهم۔ (متفق عليه) (1/343)-