السلام علیکم! مولانا صاحب! مجھےآپ سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ اگر کوئی کسی ولی کے مزار پر جاتا ہے ، اور وہا ں یہ کہے کہ’’ یا اللہ میرا یہ کام کر دیں اس ولی کے صدقے‘‘ تو کیا یہ شرک نہیں ہے؟ میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے تفصیل سے جواب ارسال کریں گے۔ اللہ حافظ!
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی ہر انسان کی دعا سنتا ہے اور قبول فرماتا ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگوں کی دعا زیادہ اسرع الى الاجابۃ ہوتی ہے، اس لئے بزرگوں کے پاس جا کر اپنے لئے دعا کروانا ،نیز اولیاء اللہ اور صالح اعمال کے وسیلہ سے دعا مانگنا بلاشبہ جائز اور صحابہ و تابعین کے طرز عمل سے ثابت ہے، لہذا مذکور طرق میں سے کسی کو غلط قرار دینا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔
قوله تعالى : {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ } [البقرة: 186]
و في مشكاة المصابيح: عن عمر بن الخطاب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن خير التابعين رجل يقال له: أويس وله والدة وكان به بياض فمروه فليستغفر لكم ". رواه مسلم اھ (3/ 1765)
و في سنن ابن ماجه: عن عثمان بن حنيف، (إلی قوله) ويدعو بهذا الدعاء: «اللهم إني أسألك، وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة، يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى، اللهم فشفعه في» . قال أبو إسحاق: هذا حديث صحيح اھ (1/ 441)
و في تفسير روح المعاني: الأول أن التوسل بجاه غير النبي صلّى الله عليه وسلّم لا بأس به أيضا إن كان المتوسل بجاهه مما علم أن له جاها عند الله تعالى كالمقطوع بصلاحه وولايته اھ (3/ 297) واللہ اعلم بالصواب