السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری بیوی حاملہ ہے اور پانچ ماہ سے حمل ہے، ڈاکٹر کہتا ہے کہ بچے کے سر میں پانی ہے، اوراس کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں ، اور اگر زندہ رہے بھی تو دماغی لحاظ سے ٹھیک نہیں ہوگا، انہوں نے ہمیں مشورہ دیا ہے کہ ہمیں پری ڈیلوری کرنی چاہیے ورنہ ماں کی زندگی کو خطرہ ہوسکتاہے، کیونکہ سر والا طرف دن بدن بڑھتا رہتا ہے، کیا اسلامی رو سے ہم یہ آپریشن کرسکتے ہیں؟
پانچ ماہ کا بچہ زندہ انسان ہوتا ہے اس کو مارنا اور اس کی ماں کو قتل کرنا برابر ہے، فرق اتنا ہے کہ وہ پردہ میں لیٹاہوا ہے، اور ماں چل پھر رہی ہے، اس لیے اس کو مارنے کے لیے آپریشن کرنا جائز نہیں، ہاں پیدائش کے بعد یا پہلے از خود مر جائے تو والدین اس کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوں گے۔
کما فی الفقہ الاسلامی: اتفق العلماء على تحريم الإجهاض دون عذر بعد الشهر الرابع أي بعد 120 يوماً من بدء الحمل، ويعد ذلك جريمة موجبة للغُرَّة ، لأنه إزهاق نفس وقتل إنسان. وأرجح عدم جواز الإجهاض بمجرد بدء الحمل الخ (4 /2647)۔