میرے شوہر نے دو مختلف موقعوں پر طلاق کے الفاظ استعمال کیے ہیں، ایک دن فون پر بات ہو رہی تھی تو ہماری لڑائی ہو گئی تو غصے میں انہوں نے کہا کہ" میری طرف سے تم فارغ ہو“ تین بار یہ کہا اور کہا کہ دفعہ ہو جاؤ میرے گھر سے ، اس وقت مجھے اس بات کی پوری سمجھ نہیں تھی، اس لئے میں نے دھیان ہی نہیں دیا اور نہ ہی میرے شوہر نےتقریباً 20 دن بعد پھر ہماری لڑائی ہوئی تھی، میرے شوہر نے کہا کہ میں نے تمہیں طلاق دی، ایک دفعہ ہی کہا، یہ بات میں نے اپنی والدہ کو بتائی تو ان سے بات کرتے ہوئے میرے شوہر نے کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی، آپ کی بیٹی جھوٹ بول رہی ہے، پھر میں نے دوسرے کمرے میں جا کر شوہر سے بات کی اور ان سے کہا جو بات بولی ہے ، اس کو مان لیں اور راز داری ہی سے اس معاملہ کو ہم حل کر لیتے ہیں تو انہیں اور زیادہ غصہ آگیا اور مجھے ڈانٹ دیا تو میں چپ ہو گئی۔ ایک گھنٹہ بعد جاوید غامدی کی ویب سائٹ سے سٹیٹمنٹ بھیجی کہ اگر غصہ میں صرف بیوی کو ڈرانے کے لئے طلاق کا بولا جائے اور نیت طلاق کی نہ ہو تو اس سے طلاق نہیں ہوتی، لیکن میرے دل کو یقین نہیں ہوا، کچھ دن بعد پھر میں نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں ایسا انسان لگتا ہوں کہ اگر ہماری طلاق ہو گئی تو بھی میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں ؟اس بات کو آج چار ماہ ہونے کو ہیں، لیکن دل سے وہم نہیں جارہا، عجیب الجھن ہے، جب بھی شوہر کے بارے میں سوچتی ہوں تو ساتھ ہی یہ خیال آجاتا ہے کہ ہمارا رشتہ ختم ہو گیا ہے، گناہ کا احساس ہوتا ہے، براہِ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں کہ اس سے طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟ کوئی ٹھوس بات ہو جس سے یا تو میرے دل کو یقین ہو جائے کہ طلاق نہیں ہوئی اور اگر ہو گئی ہے تو میں شوہر کو یقین دلا سکوں اور ہم گناہ سے بچ سکیں۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃْ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی طرح بھی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران مذکور الفاظ ’’میری طرف سےتم فارغ ہو "تین بار سائلہ کو کہے ہوں اور اس کے بعددوران عدت ایک دفعہ" میں نے تمہیں طلاق دی " کہا ہو تو اس سےسائلہ پر دو طلاقِ بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا ہے، اس کے بعد جتنا عرصہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہے ہیں، گناہ میں رہے ہیں، اس پر بصدق دل تو بہ واستغفار کریں اور فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں۔ تاہم آئندہ کے لئے اگر دونوں میاں بیوی خوشی سے آپس میں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر پر دوبارہ نکاح کرنے کے بعد ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد سائلہ کے شوہر کو صرف ایک طلاق دینے کا اختیار باقی رہے گا، اس لئے آئندہ کے لئے اس بارے میں بہت زیادہ احتیاط کی جائے۔
کما فی رد المحتار: قوله (الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة. وقال أيضا: قيدنا الصريح اللاحق للبائن بكونه خاطبها به وأشار إليها للاحتراز عما إذا قال كل امرأة له طالق فإنه لا يقع على المختلعة إلخ وسيذكره الشارح في قوله ويستثنى ما في البزازية إلخ ويأتي الكلام فيه (قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها. اهـ.(3/306)