مفتی صاحب ورثے میں انشورنس کے پیسے ملے ہیں پندرہ لاکھ روپے، تو اب اس کا کیا کریں کسی مدرسے میں لگاسکتے ہیں؟
مرحوم نے انشورنس کمپنی میں جتنی رقم پریمیم کی صورت میں جمع کی ہے وہ تو مرحوم کا ترکہ ہے جو کہ اس کے تمام ورثاء میں حسب حصصِ شرعی تقسیم ہوگا البتہ اصل رقم کے علاوہ انشورنس کمپنی کی طرف سے جو اضافی رقم دی جاتی ہےا سے بلا نیتِ ثواب صدقہ کردینا چاہئے اگر کسی مدرسہ میں دینا چاہیں تو بھی دے سکتے ہیں۔
فی الشامیۃ: تحت (قولہ الا فی حق الوارث الخ) أي فإنّہ (إلی قولہ) والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردّہ علیہم وإلا فإن علم عین الحرام لا یحلّ لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (۵، ص۹۹)۔
وفیہ ایضًا: مات وکسبہ حرام فالمیراث حلال ثم رمز وقال لا نأخذ بہذہ الروایۃ وہو حرام مطلقا علی الورثۃ فتنبہ۔ (ج۵، ص۹۹)۔
وفیہ ایضًا: رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئًا یرجو بہ الثواب یکفر ولو علم الفقیر بذلک فدعا لہ وأمن المعطی کفرا جمیعًا۔ (ج۲، ص۲۹۲) واللہ اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2