کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والدصاحب کے انتقال کے وقت ورثاء میں تین بیٹے اور چھ بیٹیاں موجود تھیں، ہمارے والد مرحوم کی پراپرٹی سے جو بھی کرایہ آتا ہے،تقریباً سترہ (17) سال سے ہمارے بھائی لے رہے ہیں، تو کیا ہم سب بہنوں کا بھی اس کرایہ پر حق بنتا ہے، اور اگر بنتا ہے، تو کس حساب سے شرعی حکم تحریر فرمائیں۔
سائلہ کے والد مرحوم نے بوقت انتقال دیگر اشیاء کی طرح جو پراپرٹی اپنی ملکیت میں چھوڑی ہے وہ بھی مرحوم کا ترکہ ہیں، جو کہ دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگی، چنانچہ بھائیوں کے ذمہ مذکور پراپرٹی میں سے بھی اپنی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دینا لازم ہوگا،البتہ اگر والد مرحوم کی وفات کے بعد تمام بہن بھائیوں نے مذکور پراپرٹی کو آپس میں تقسیم کرنے کے بجائے اسے کرایہ پر دئیے جانے پررضامند اور آمادگی ظاہر کی ہو تو ایسی صورت میں مذکور پراپرٹی سے کرایہ کی مد میں جو رقم حاصل ہوئی ہے اس میں بھائیوں کی طرح بہنیں بھی اپنے حصص کے مطابق حقدار ہیں،چنانچہ کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم بھی تمام بہن بھائیوں کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ ان کے مذکور ورثا کے درمیان اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والد کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والد نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کی کل (12) حصے بنائے جائیں، جس میں سے ہر بھائی (یعنی مرحوم کے ہر بیٹے)کو دو (2) حصے، اور ہر بہن (یعنی مرحوم کی ہر بیٹی)کوایک (1) حصہ دیا جائے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2