کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ والدین مرحومین کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہوا ہے، اور ان کے ورثاء میں چار بیٹیاں اور تین بیٹے موجود ہیں، والد مرحوم کے ترکہ میں پچپن (۵۵) لاکھ روپے مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم ہونگے؟ نیز بہنوں کا اپنا حصۂ میراث معاف کرنے کی کونسی صورت شرعاً معتبر ہے؟ آیا روپے بہنوں کے ہاتھ میں دے کر وہ اپنا حصہ دوبارہ بھائیوں کے حوالہ کریں تو یہ معافی معتبر ہوگی یا رقم سے قبل بھی بہنیں معاف کر دیں تو ایسی صورت میں بھی معافی معتبر کہلائی گئی یا نہیں؟
والدین مرحومین کے ترکہ میں جس طرح بیٹے حصہ دار ہوتے ہیں، اسی طرح مرحومین کی بیٹیاں بھی اپنے شرعی حصے کی حقدار ہوتی ہیں، لہٰذا بھائیوں کے ذمّہ اپنی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دینا لازم اور ضروری ہے، بہنوں کی دلی رضامندی کے بغیر محض مروّتاً یا بھائیوں کا ناراضگی اور قطعِ تعلقی کے خوف سے اپنا حصہ معاف کرنے کا کوئی اعتبار نہیں، البتہ اگر بہنیں واقعۃً دلی طور پر اپنا حصہ اپنے بھائیوں کو دینے پر رضامند ہوں تو اس کے لۓ یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ ترکہ میں موجود رقم تقسیم کر کے ہر بہن کو اس کا حصہ حوالہ کیا جائے، پھر اگر ہر بہن اپنی مرضی سے اپنا حصہ کسی ایک بھائی کو دینا یا تمام بھائیوں پر تقسیم کرنا چاہے تو اس کا انہیں اختیار ہے، جبکہ ترکہ میں موجود رقم تقسیم کر کے ہر بہن کو اس کا حصہ حوالہ کرنے سے قبل بہنوں کی طرف سے محض زبانی کلامی معافی معتبر نہیں اور اس سے ان کا حصہ بھی ساقط نہ ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف، واجب الاداء قرضوں کی ادائیگی اور بقیہ مال کے ایک تہائی حصہ کی حد تک جائز وصیت) پر عمل کرنے کے بعد اگر یہی رقم بچتی ہو، اور مرحومین کے ورثاء بھی یہی ہوں تو ایسی صورت میں ہر ایک بیٹے کو گیارہ (۱۱) لاکھ، جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو پانچ لاکھ پچاس ہزار (۵۵۰۰۰۰) روپے ملیں گے۔واللہ خیر الواثین
فی الفتاویٰ الخیریة: سئل فی رجل مات عن أم وأولاد وزوجة وترك میراثا فقبل قسمته أشهدت الأم علی أنها إنما لا تستحق قبلهم حقا ولا إرثا وابرأت ذمتهم ولم تتمرض لا سقاط ما تستحقه من الترکة فهل هذا الإبراء یشتمل ما تستحق من الترکة قبل قسمتهما (أجاب) صرح علماءنا بان الإرث لا یصح اسقاطه (إلی قوله) ولو قال وارث ترکت حقی لم یبطل حقه لأن لملك لا یبطل اھ(۲/ ۹۹)۔
وفی تكملة ردالمحتار علی الدرالمختار: وفی الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.( 11/678)۔
وفی شرح الأشباه والنظائر: لو قال الوارث:تركت حقي لم يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك(3/52)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2