وراثت میں بغیر کسی عذر کے دیر کرنے سے گناہ ہے؟
واضح ہو کہ وراثت کی تقسیم جتنی جلدی ممکن ہو ، اتنی جلدی تقسیم کرکے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیئے ، تا کہ بعد میں کسی قسم کی بدمزگی ، آپس کے اختلافات ، لڑائی جھگڑے اور کسی کی حق تلفی کی نوبت نہ آئے۔
تاہم اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور سب باہمی رضامندی سے فی الحال تقسیم کے لئے راضی نہ ہوں تو ایسی صورت میں تاخیر کی بھی گنجائش ہے ، اور اس صورت میں گناہ بھی نہ ہوگا , البتہ اگر کوئی وارث تقسیمِ جائیداد کا یا اپنے حق کا مطالبہ کرے تو ایسی صورت میں جائیداد تقسیم کرنا یا اس وارث کا شرعی حق دینا دیگر ورثاء پر لازم ہے ، مطالبہ کے باوجود اس وارث کا حق دینے میں ٹال مٹول سے کام لینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار : (و قسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة و بطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) و في الخانية : يقسم بطلب كل و عليه الفتوى ، لكن المتون على الأول فعليها العول (و إن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض . (6/ 260)-
و فی مجلة الأحكام العدلية : إذا طلب أحد الشريكين القسمة و امتنع الآخر فيقسمه القاضي جبرا إن كان المال المشترك قابلا للقسمة و إلا فلا يقسمه . على ما يبين في الفصل الثالث و الرابع. (ص: 218)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2