میرے دادا نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے تین بیٹوں کو تحفے میں دی تھی، ان کے مالی حالات کی وجہ سے، میرے والد اور چچا کے پاس زیادہ جائیداد نہیں ہے،جب کہ میری تینوں پھوپھیوں کا اپنا گھر تھا وہ اپنے شوہروں کے ساتھ رہ رہی تھیں،میرے دادا کے انتقال کے بعد میری پھوپھیوں نے وراثت مانگنا شروع کردی ہے، اس سلسلے میں حکمِ شرعی سے رہنمائی فرمائیں، کیا میری پھوپھیاں اپنا حق مانگ سکتی ہیں یا مکمل میراث میرے والد اور چچاؤں کا حق ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں سائل کے دادا نے اگر باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ اپنے بیٹوں کو جائیداد تحفہ میں دی ہو تو اب وہ اس کے مالک بن گئے ہیں، لہذا اب سائل کی پھوپھیوں کا مذکور جائیداد میں کوئی حق نہیں ہے، البتہ اس جائیداد کے علاوہ دادا نے اگر ترکہ میں کچھ چھوڑا ہو تو اس میں دیگر ورثاء کے ساتھ پھوپھیاں بھی حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہوں گی۔
کما فی الدر المحتار : ( و تتم ) الھبۃ (بالقبض) الکامل (و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2