زید کی والدہ نےاپنی زندگی میں اپنے بھائیوں سے والد کی وراثت سے حصہ نہیں مانگا , جبکہ زید کے والد نے بھی اپنی حیات میں اپنی اولاد کو نانا کی وراثت سے حصہ لینےسے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر زید لوگ میری اولاد ہوئے تو اپنے ماموں سے اپنی والدہ کا حصہ نہیں لینگے ، زید کی والدہ اور والد کے انتقال کے بعد زید کا اپنے ماموں سے نانا کی وراثت میں سے والدہ کا حصہ مانگنا کیسا ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب درکار ہے۔
زید کی والدہ نے اگرچہ اپنے بھائیوں (زیدکے ماموں ) سے والدِ مرحوم کی جائیداد میں حصہ نہیں مانگا اورزید کے والد نے بھی اپنی اولاد کونانا مرحوم کی جائیداد سے حصہ مانگنے سے منع کیاہے ،لیکن اسکے باوجود بھی اگر زید کی والدہ مرحومہ , والدِ مرحوم کی جائیداد میں سے اپنے حصے کے عوض کچھ رقم وغیرہ لیکر بقیہ حصہ سے دستبردار نہ ہوئی ہو یا اپنا حصہ اپنے بھائیوں کوفروخت نہ کیا ہوتو فقط حصہ نہ مانگنے کی وجہ سے اس کا حق ختم نہیں ہوا ، لہذا زید اوراسکے دیگر بہن بھائیوں کیلئے اپنے ماموں سے نانا مرحوم کی جائیداد میں اپنی والدہ مرحومہ کے حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ، البتہ اگر زید کے والدین مرحومین نے زید کے ماموں کی تنگ دستی وغیرہ کسی عذر کی وجہ سے زید اور اپنی دیگر اولاد کونانا کی جائیداد میں حصہ لینے سے منع کیا ہو تو زید اور اسکے دیگر بہن بھائی اگر والدین کے منشاء اورخواہش کے مطابق نانامرحوم کی جائیداد میں سے کچھ تھوڑا بہت لیکر بقیہ حصے سے ماموں کے حق میں دستبردار ہوجائیں تواس کا انہیں اختیار ہے ،لیکن ایساکرنا ان کے ذمہ لازم اور ضروری نہیں ۔
کما فی تکملہ رد المحتار : و في البزازية : لو أبرأ أحد الورثة الباقي ثم ادعى التركة و أنكروا لا تسمع دعواه و إن أقروا بالتركة أمروا بالرد عليه . و فيها : و لو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها و من حصتي لا يصح و هو على حقه ، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ .(8/208)۔
و فیہا ایضاً : لا يجوز الابراء عن الاعيان و يجوز عن دعواها . الارث جبري لا يسقط بالاسقاط . (8/116)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2