السلام علیکم! حضرت میرا سوال یہ ہے کہ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا ثابت نہیں ہے ، سوائے کچھ وظائف جو حضورِ اکرم ﷺ کرتے تھے ، جیسے فرض کے بعد آپ یہ دعاء پڑھتے تھے "اللہم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام" اور کبھی کوئی اور دعاء پڑھتے تھے اور پھر فوراً سنت میں مشغول ہو جاتے تھے ، میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں، نماز کے بعد جو دعائیں حضورِ اکرام ﷺ سے ثابت ہیں وہ کر کے فوراً اٹھ جاتا ہوں، لیکن آج مسجد کے امام نے مجھے کہا بھائی آپ جو نماز کے بعد فوراً اٹھ جاتے ہیں ، ایسا مت کیا کریں، کیونکہ حضور ﷺ کے زمانے میں ایک صحابی نماز کے بعد فوراً اٹھے تو حضرت عمر ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر فوراً بٹھا دیا اور حضورِ اکرام ﷺ نے کہا ،عمر تم حق پے ہو ،تم ہی یہ کر سکتے ہو ، اور مسجد کے امام صاحب نے کہا اگر آپ کو دعا نہیں مانگنی تو نہ مانگیں، لیکن جلدی مت اٹھ جایا کرو ، اب میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ جب نماز کے سلام کے بعد امام اور مقتدی کا رابطہ ٹوٹ گیا ، یہ کیسے ممکن ہے کہ مقتدی جیسا امام کرے ، اس کی اتباع کرے، حضرت مجھے اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی، آپ سے درخوست ہے کہ مجھے بتائیں کہ کیا میں صحیح کرتا ہوں یا جو مولوی صاحب کہہ رہا ہے اس کے مطابق مجھے بھی بیٹھ جانا چاہیۓ ، تاکہ وہ آرام سے اپنی اجتماعی دعا مکمل کرے، پھر میں اپنی سنت پڑھوں؟
فرض نمازوں کے بعد امام و مقتدی یا منفرد کا دعا کرنا اور دعا میں ہاتھ اٹھانا احادیثِ نبویہ ﷺ و روایاتِ فقہیہ سے ثابت ہے جو کہ سنتِ مستحبہ ہے ، پس امام اور مقتدی اس سنت پر اگر عمل کریں تو ضمناً خود بخود اجتماع ہو جائے گا، اور یہ جائز ہے، ہاں دعا آہستہ مانگنا افضل ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں اس کی ترغیب دی گئی ہے اور اگر امام بآواز بلند دعا کرے اور مقتدی اس پر آمین کہیں تو تعلیماً یہ بھی جائز ہے، اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ فرائض کے بعد نفسِ دعا اور دعا میں ہاتھوں کا اٹھانا، آمین کہنا اور دعا کے ختم پر دونوں ہاتھوں کا چہرے پر پھیرنا ، احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، لہٰذا اس کو برا سمجھنا اور بدعتِ سیئہ کہنا صحیح نہیں ، البتہ مروجہ اجتماعی دعا کہ امام و مقتدی سب مل کر ہی دعا کریں ابتداء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے اس طور پر کہ امام موذن افتتاحیہ چند کلمات" الحمد للہ الی اخرہ "وغیرہ اونچی آواز سے ادا کرتا ہے اور انتہاء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے، جس کی بناء پر مقتدی، امام کی دعا کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور امام سے پہلے اپنی دعا ختم نہیں کر سکتے ، اگر پہلے ختم کریں تو لوگوں میں یہ عمل معیوب سمجھا جاتا ہے ، بعض مقامات پر تو امام کی جہری دعا کے جواب میں بآواز بلند آمین یا دوسرے جوابی کلمات نہ بولنے والے کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، اور بعض مقامات پر مقتدی کو اپنی نماز سے فارغ ہو کر امام کی دعا کے انتظار میں بیٹھنا پڑتا ہے، یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا شریعت سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے اور قرونِ مشہود لہا بالخیر میں اس کا ثبوت نہیں ملتا ، اس لۓ یہ طریقہ من گھڑت اور بدعت ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
خلاصہ یہ کہ امام اور مقتدی کا اجتماع ایک ضمنی چیز ہے ، مقصود نہیں، لہٰذا اس کو اصل دعا سے بھی مزید بڑھانے کی کوشش کرنا اور ضروری سمجھنا درست نہیں، بلکہ امام اور مقتدی دونوں کو اختیار ہے، اس میں کوئی ایک دوسرے کا تابع نہیں، لہٰذا اگر مقتدی چاہے تو مختصر دعا مانگ کر چلا جائے اور چاہے تو امام کے ساتھ ختم کرے، اگر چاہے تو امام کی دعا کے بعد دیر تک دعامانگتا رہے، ہر طرح جائز ہے اور ان میں سے کسی طرح بھی کرے ، تو فرائض کے بعد کی یہ سنتِ مستحبہ ادا ہو جائے گی۔
كما التحفة المرغوبة في أفضلية الدعاء بعد المكتوبة : اني قد سئلت عن الدعاء بعد المكتوبة هل هي سنة ام لا؟و ان الدعاء بعد المكتوبة هل الافضل فيه ان تكون الدعاء قبل السنة المؤكدة في الصلاة و بعدها سنة ام لا ؟ فقلت ان الدعاء بعد المكتوبة سنة مستحبة لايحسن تركها لاسيما في حق الامام و جاز فيه ان يكون قبل سنة ما لم يكن الدعاء طويلة فكتبت هذه الرسالة و أوردت فيها ما يدل علي عدم كراهة الدعاء قبل السنة بل انه الافضل من احاديث النبوية صلي الله عليه وسلم (ص:٢٥١)۔
و في مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح : "ثم يدعون لأنفسهم و للمسلمين" بالأدعية المأثورة الجامعة (إلی قوله) "رافعي أيديهم" حذاء الصدر و بطونها مما يلي الوجه بخشوع و سكون ثم يختمون بقوله تعالى {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} الآية (إلی قوله) و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : "من قال دبر كل صلاة {سُبْحَانَ رَبِّكَ.....} الآية ثلاث مرات فقد اكتال بالمكيال الأوفى من الأجر" "ثم يمسحون بها أي بأيديهم "وجوههم في آخره" اھ (ص: 120)۔